کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) بلوچستان عوامی پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے ریکوڈک منصوبے کے معاہدے پر بلوچستان کی قوم پرست جماعتوں کے احتجاج پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریکوڈک منصوبے کا معاہدہ طے پاچکا ہے اسے سیاست کا مہرہ بنانا کسی بھی طرح درست عمل نہیں، قوم پرست جماعتیں پنڈورا بکس نہ کھولیں اور بلوچستان کو ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہونے دیں۔ ریکوڈک منصوبہ پر جو معاہدہ ہوا ہے وہ تاریخی ہے اس معاہدے سے بلوچستان معاشی طور پر مستحکم ہوگا۔ یہ بات انہوں نے کوئٹہ میں اپنی رہائش گاہ پر مختلف وفود سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی سابق صوبائی وزیر میر عبدالکریم نوشیروانی نے کہاکہ سیندک پراجیکٹ ہو یا سی پیک بلوچستان کو اس میں اچھی خاصی رائلٹی مل رہی ہے جس سے صوبے میں پسماندگی اور بے روزگاری کے خاتمے میں مدد ملے گی اور ریکوڈک منصوبہ اس ترقی و خوشحالی میں ایک انقلاب برپا کریگا۔ انہوں نے مزید کہاکہ قوم پرست جماعتوں کو چاہئے کہ وہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کی حکومت کے ساتھ مل کر وفاق سے مزید فنڈز اور پیسے مانگیں کیونکہ بلوچستان کی موجودہ حکومت کی مالی حالت انتہائی خراب ہے حتیٰ کہ صوبائی حکومت ملازمین کی تنخواہیں بھی ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ صوبے کو مالی طور پر مستحکم کرنے والے طے شدہ معاہدوں سی پیک، سیندک اور ریکوڈک منصوبوں کو دوبارہ ری اوپن کرنے کا فائدہ کسی کو نہیں بلکہ ان پر احتجاج صوبے کی ترقی و خوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے اور اپنی سیاست چمکانے کے سوا کچھ نہیں۔ عوام کو اب ایسی سیاست سے مزید بے وقوف نہیں بنایا جا سکتا انہوں نے مزید کہا کہ ریکوڈک منصوبہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی معیشت میں ایک انقلات لائے گا۔ بلوچستان کو 25 فیصد حصے کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع میسر آئیں گے جس سے صوبے کی غربت و بیروزگاری کے خاتمے کے علاوہ معاشی طورپر مستحکم بنانے میں بھی مدد ملے گی جس سے ترقی و خوشحالی کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا اور بلوچستان مالی طور پر خود کفیل ہوجائے گا انہوں نے کہا کہ سیلاب سے بلوچستان میں جو تباہ کاریاں ہوئی ہیں ان کے ازالے کیلئے قوم پرست جماعتیں وزیراعلیٰ قدوس بزنجو کے ساتھ کھڑی ہوں اور وفاق سے امداد کا مطالبہ کریں تاکہ صوبے کے غریب لوگوں کی مدد اور بے گھر لوگوں کو چھت دی جا سکے۔ انہوں نے کہاکہ وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو کا وڑن صوبے کی ترقی و خوشحالی اور قیام امن ہے صوبے اور ملک کو ساڑھے چار سال کے دوران دھینگا مشتی سے ناقابل تلافی نقصان ہو اہے اس کا ازالہ ضروری ہے۔ آج اگر ہم نے پھر صرف سیاسی سکور کی سیاست کو اپنایا اور صوبے و عوام کے مفاد کو پس پشت ڈال دیا تو آنے والی نسلیں ہمیں معاف نہیں کریں گی۔
ریکوڈک منصوبے کا معاہدہ طے پاچکا ہے اسے سیاست کا مہرہ بنانا کسی بھی طرح درست عمل نہیں، میر عبدالکریم نوشیروانی

ٹیگز:
میر عبدالکریم نوشیروانی
