ڈیرہ اللہ یار (ڈیلی گرین گوادر) رکن صوبائی اسمبلی میر سلیم احمد کھوسہ نے ایک بار پھر حکومت کی جانب سے سیلاب متاثرین کی امداد پر مایوسی کا اظہار کیا ہے۔کھوسہ ہاوس صحبت پور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ حالیہ سیلاب سے صحبت پور میں جتنی تباہی ہوئی اسکی مثال ماضی میں دور دور تک نہیں ملتی تین ماہ گزر چکے صحبت پور کے علاقے تاحال سیلابی پانی کی لپیٹ میں لوگ اپنے گھروں سے بے گھر انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں حکومتی سطح پر سیلاب سے ہونے والے نقصانات کا جس طرح ازالہ کرنا چاہیے تھے اس سطح پر کوئی اقدامات نظر نہیں آ رہے سیلاب متاثرین آج بھی تکلیف اور کرب میں مبتلا ہیں حکومت کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں ہو رہی ہیں ایریگیشن سسٹم مکمل طور پر ناکام ہوچکا ہے نہروں کے شگاف تاحال پر نہیں کیے گئے جس طرح سے ایری گیشن سسٹم کے ذریعے صحبت پور میں سیلاب کی صورت میں تباہی مچائی گئی اسکی تحقیقات بھی نہیں کی جا رہی نا ہی ذمہ داروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے وزیراعظم میاں شہباز شریف دو بار صحبت پور کے دورے پر آئے انکے دورے کے وقت انتظامیہ اور ایری گیشن حکام متحرک ہوئے مگر وزیراعظم کے جاتے ہی وہ اپنی ذمہ داریوں سے مکر گئے سلیم احمد کھوسہ نے مزید کہا کہ موسم تبدیل ہوچکا ہے سرد علاقوں میں قبل از وقت برف باری شروع ہوگئی جسکے اثرات ہمارے علاقے پر بھی پڑ رہے ہیں ہزاروں افراد کھلے آسمان تلے بیٹھے ہیں انہیں شیلٹرز فراہم نہیں کیے جا رہے اور نا ہی انہیں گرم کپڑے اور بستر دیئے گئے مشکل وقت ہے گزر رہا ہے لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ متاثرین کی بحالی کے لیے موثر اقدامات اٹھائے لیکن یہاں جس طرح سے ریلیف کا کام کیا جا رہا ہے اس سے قطعی مطمن نہیں ہیں پٹ فیڈر کینال کا پورا نظام برباد ہے اربوں روپے خرچ ہوئے تاہم افادیت کچھ نہیں اب شنید میں آ رہا ہے کہ وفاقی حکومت پٹ فیڈر کینال کو زیرو سے آر ڈی 418 تک ازسر نو تعمیر کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے تو وفاقی حکومت پٹ فیڈر کینال کا ٹھیکہ کسی اچھی کمپنی کو دے تاکہ اس کینال سسٹم کو بحال کیا جا سکے۔
سیلاب متاثرین آج بھی تکلیف میں مبتلا ہیں حکومت کی جو ذمہ داریاں ہیں وہ پوری نہیں ہو رہی ہیں،میر سلیم احمد کھوسہ

ٹیگز:
سیلاب متاثرین
