کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سابق صدر وسپریم کورٹ پاکستان کی جانب سے مقررو اٹر کمیشن بلو چستان کے چیئر مین امان اللہ کنرانی نے بلو چستان میں سیلابی تباہ کا ریوں کے مناظر و آوازکو اجا گر کر تے ہوئے پورے صوبے کو آفت زدہ قرار دینے کا مطالبہ کر دیا۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کے 35اضلاع سے اس وقت سیلاب سے متاثرہ ہوئے ہیں، بلو چستان کا کوئی ولی وارث نہیں ہے، کئی متاثرہ اضلاع میں غذائی اجناس، دوائیاں ختم ہو چکی ہیں،میڈیا پر شہباز گل کا ڈرامہ بند کر کے بلو چستان پر توجہ دی جائے اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اور متاثرین کی زند گیوں کو خطرات لاحق ہوں یالاگوں کو خوراک نہیں مل سکے۔ یہ بات انہوں نے پیر کو اپنے جا ری کر دہ ایک بیان میں کہی۔ انہوں نے کہاکہ مقامی دو قومی و بین القوامی ادارے متوجہ ہوں اور امدادی سر گرمیوں، علاج و معالجہ ورابطہ کے ذرائع بحال کر نے کے کام کو فوری سر عت کے ساتھ شروع کیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ بلوچستان کا چپہ چپہ کشمور سے ژوب تک ژوب سے لیکر قلعہ عبد اللہ سے چاغی اور تفتان تک چاغی جیونی اور گوادر تک جیو نی سے گوادر سے لیکر لسبیلہ اور دریجی تک کچھی، جعفر آباد، کشمور سے ڈیرہ بگٹی سے پھیلا وغ صحت پور سے سید محمد کنرانی تحصیل تک ڈیر اللہ یار سے جیکب آباد گھڑھی خیر وتک اور جھل مگسی تک یہ تمام علا قے بارکھان سے ڈیرہ غازی خان تک مو سیٰ خیل سے لیکر کوہ سلیمان تک یہ بلو چستان تقریباً ایک کروڑ تین لاکھ آبادی پر مشتمل ہے تقریباً 35ضلع تمام کے تمام پانی سے ڈوبے ہوئے ہیں اور انسانی المیہ کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہاکہ اس کے اندر کوئی ایسا گھر نہیں ہے جو سیلاب کی تباہ کا ریوں سے محفوظ ہو۔ انہوں نے کہاکہ لسبیلہ، خضدار، چمن سے کوئٹہ، ڈیر ہ اسما عیل خان سے ژوب،لو رالائی کے راستے بند ہیں جبکہ نصیر آباد،جیک آباد اور بولان کا راستہ کبھی کھلتا ہے تو کبھی بند ہو جاتا ہے ٹرین کا راستہ بھی بند ہے ان حالات میں ایک کروڑ تین لاکھ زند گیاں کو خطرہ لاحق ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس خطرہ سے زیا دہ ہے جو کشمیر میں ہزاروں لوگ شہید ہوئے تھے اور کوئٹہ میں 35ہزار لوگ زلزلے میں شہید ہوئے تھے ان حالات میں بین الاقوامی ادارہ سے اپیل کی جا ئی۔ انہوں نے کہاکہ بلو چستان کا کوئی ولی وارث نہیں ہے سندھ کے وارث آصف علی زر دای اور مر اد علی شاہ ہیں مگر ہمارا بلو چستان لا وارث ہے نہ کوئی سیا سی بند ہ سامنے آہاہے نہ کوئی کردار ادا کر رہا ہے نہ وزیر اعلیٰ کے بس میں ہے کہ وہ کچھ کر سکیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ سوائے اللہ کے بین الا قوامی امداد اور وفا ق کے توجہ کے ان انسانوں کو بچانے کا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہاکہ جب 2005میں زلزلہ آیا تھا تب شیخ رشید وزیر تھے اور کہا تھا کہ مار گلہ کے ٹاور کے علاوہ کئی نقصان نہیں ہوا اس سے بین الاقوامی امداد رکھ گئی مگر تین دن بعد پتہ چلا کہ80ہزار افراد شہید ہوئے ہیں جب حکومت اس طرح خواب خرگوش میں ہوگی اور لوگوں کو متوجہ نہیں کر سکے گی تو یقیناً انسانی المیہ جنم لے سکتا صر ف یہ نہیں کہ لوگ کے گھر، مال مویشی پانی سے بہہ گئے اس حد تک یہ معاملہ نہیں اس وقت جو لوگ بچ گئے ہیں وہ کسمپری کی زندگی گزار رہے ہیں ان کو علاج نہیں مل سکتا، دوائیاں نہیں مل سکتی سایہ نہیں مل سکتا کیونکہ اس وقت یہ ممکن نہیں ہے کہ حکومت پورے صوبے کو بیک وقت سپلائی دے سکے۔ انہوں نے کہاکہ سپلائی کے راستے بند ہیں اور جہاں جہاں شہر نزدیک ہیں وہاں بھی غذائی اجناس، دوائیاں ختم ہو چکی ہیں اس لئے خداراس کا اور اک کریں۔ انہوں نے کہاکہ شہباز گل کا ڈرامہ بند ہو نا چاہئے، میڈ یا سے اپیل ہے کہ بلو چستان پر توجہ دیں اس سے پہلے کہ دیر ہوجائے اور اطلاع ملے کہ لاکھوں افراد شہید ہوجائیں یا ان کی زند گیوں کو خطرات لاحق ہوجائے یالاگوں کو خوراک نہیں مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 85گھنٹوں سے بارش جا ری ہے خاص طور پر نصیر آباد ڈویژن میں ڈیر بگٹی، صحبت پور اور سرحد ی اضلاع خاص طو پر جبکہ بلو چستان کے 35اضلاع متاثرہیں اس وقت ان علاقوں پر سخت توجہ کی ضرورت ہے جس کی کمی محسو س کی جا رہی ہے۔
میڈیا پرشہبازگل کا ڈرامہ بند کرکے بلوچستان کے سیلاب متاثرین کے مسئلے پر توجہ دی جائے، امان اللہ کنرانی

ٹیگز:
امان اللہ کنرانی
