قلات(ڈیلی گرین گوادر) قلات میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا لوگ پانی کے حصول کے لئے سرگردان ہو گئے شہر میں پانی کی شدید قلت کی وجہ سے خواتین اور معصوم بچے ہاتھوں پانی کے بالٹیاں اور ڈبے اٹھا کرزرعی ٹیوب ویلوں سے پانے حاصل کرنے پر مجبور ہیں محکمہ پی ایچ ای کے زمہداران کہیں بھی دیکھائی نہیں دیتے اور فون کرنے پر اپنے فون اٹینڈ نہیں کرتے ہیں عوام کا کوئی بھی پرسان حال نہیں ہیں شہر میں متعدد واٹر سپلائی اسکیمز خراب ہے جنہیں محکمہ کو مرمت کرنے کی توفیق نہیں ہوتی ہے آفیسران اور زمہ داران شہریوں صرف طفلی تسلیوں کے سہارے چھوڑ دیئے منتخب عوامی نمائندے بھی بیچارے عوام کو بے یار مدد گار ہی چھوڑ دیئے ہیں عوامی حلقوں،وزیر اعلیٰ بلوچستان میر عبدالقدوس بزنجو،چیف سیکریٹری بلوچستان صوبائی وزیر پی ایچ ای سیکریٹری پی ایچ ای اور دیگر سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے،تفصیلات کے مطابق قلات میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے لو گ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے شہر میں پانی ناپید ہونے کی وجہ سے قلات کے مکین پانی کے حصول کے لئے سرگردان ہو گئے ہیں بجلی کے آتے ہی خواتین اور بچے پانی کے لئے ہاتھو ں میں بالٹیاں لئے یا تھ والی ریڈیاں دکھے لگاتے ہوئے زرعی ٹیوب ویلوں کے پاس پہنچ جاتے ہیں عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ کئی بار محکمہ کے زمہ داروں کو پانی کے مسائل کے لئے درخواست کئے ہیں خراب واٹر سپلائی اسکیمز کی مرمت کے لئے درخواست کیا گیا ہے مگر تاحال کوئی بھی شنوائی نہیں ہو سکی ہے اور منتخب عوامی نمائندوں کو بھی عوامی مشکلات کا ادراک نہیں ہے انہوں نے کہا ہے کہ ایک جانب بجلی کی طویل اور فورسڈ لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو دہرے عزاب میں مبتلا کر دیا ہے اور بجلی کے آتے ہیں قلات کے شہری پانی کے حصول کے لئے زرعی ٹیوب ویلوں کی طرف بھاگ جاتے ہیں وہاں پہنچتے ہیں بجلی چلی جاتی ہے انہوں اعلیٰ حکام سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔
قلات میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا، لوگ پانی کے حصول کیلئے سرگردان

ٹیگز:
قلات
