کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر سینیٹر(ر)امان اللہ کنرانی نے اسلامی وزراء خارجہ کے پاکستان میں انعقاد کے موقع پر ایک بیان میں کہا ہے کہ ہم روایتی طور مہمانوں کو خوش آمدید و خیرمقدم کرتے ہیں،مگر اس فورم کی افادیت و اہمیت و کردار پر تحفظات کو بھی مد نظر رکھنا ہوگا ہم ستاون اسلامی کی اتحاد یکجہتی دعوں کے برعکس دیکھتے ہیں یہ ستاون ممالک مل کر بھی ایک چھوٹے سے یہودی مملکت اسرائیل کے خلاف بات نہیں کرسکتے اور نہ ہی اس سے تجارت روک سکتے ہیں بعض نے اعلانیہ اور بعض نے در پردہ اسرائیل کو تسلیم کر رکھا ہے یہی پوزیشن ان کی بھارت سے کشمیر کے معاملے میں انکی زبانیں کنگ ہیں یہی ممالک کچھ نہ کریں یورپ کی طرح ایک کرنسی اپنائیں یا ڈالر کی بجائے باہمی تجارت اپنی اپنی کرنسیوں میں تجارت کی منظوری دیں ورنہ 1974 کی سربراہ کانفرنس کے نتائج سب کے سامنے ہیں اس کانفرنس کا حاصل بزدلی و شکست کو قانونی سرٹیفکیٹ دے کر بنگلہ دیش تسلیم کروایا گیا اور پھر ایٹم کے نام پر متحد ہونے کے اعلان کے بعد ایٹم بم کے خالق ڈاکٹر قدیر اور ایٹمی دھماکہ کرنے والے نواز شریف کے ساتھ سلوک بھی سامنے ہے میزبان ذوالفقار علی بھٹو،اور محرکین شاہ فیصل،کرنل قذافی،صدام حسین و رضا شاہ پہلوی و داؤد کو باری باری موت و زیست میں مبتلا کرکے نشان عبرت بنایا گیا مگر اسلامی اْمّہ کو کوئی جْْنبش نہ آئی بلکہ امریکہ کے دم چھلہ بنکر ایک دوسرے کے خلاف صف آراء رہے اب توبہ و بھروسہ کا تقاضا ہے سب مل کر اپنی دفاع بھی نیٹو کی طرح مشترکہ بنائیں اور اس طرز پر معاہدہ کریں ورنہ گفتن،نشستن،خوردن و برخاستن کی ماند اس کونسل کے اجلاس کا ایک نمائشی میلہ کے سوا کچھ حیثیت نہیں
یہودی مملکت اسرائیل کے خلاف بات نہیں کرسکتے،امان اللہ کنرانی

ٹیگز:
امان اللہ کنرانی
