کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام کمال خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں پانچ کے بجائے چار سال کے انتخابات ہونے چاہیئں تاکہ عوام فیصلہ کریں کہ انکے حق میں کون بہتر کام کر رہا ہے میری خواہش ہے کہ یہ حکومت ہم سے زیادہ بہتر کام کرے کبھی نہیں چاہیں گے کہ حکومت ناکام ہو، اسمبلی ضرور جاؤنگا اور حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے حکومت میں بیٹھونگا لیکن دوستوں کو حکومت کے حوالے سے مشورہ اور تنقید برائے اصلاح دیں گے ہماری نیت نہیں ہے کہ غیر ضروری سنسنی پیدا کریں، پارٹی صدارت سے استعفیٰ نہیں دیا تھا بلکہ خواہش کا اظہار کیا تھا، بلوچستان عوامی پارٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں پارلیمنٹریز، پارٹی عہدیداروں، کارکنوں کے ساتھ ملکر ایک طریقہ کار بنائیں گے کہ پارٹی کو کیسے آگے لیکر چلیں اور انٹر پارٹی انتخابات کروائے جائیں۔یہ بات انہوں نے کوئٹہ آمد کے بعدایئر پورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہی، سابق وزیراعلی جام کمال خان نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کے مستعفیٰ ہونے کے ٹوئٹ میں خواہش ظاہر کی تھی جب نئی حکومت سازی کا معاملہ آیا تو اس میں قائم مقام پارٹی بھی مقرر کئے گئے تمام چیزوں کا طریقہ کار ہوتا ہے اگر اس طریقہ کار سے جام کمال خان اگر پارٹی صدر نہیں ہوسکتے تو اسکا واضح طریقہ کار ہے کہ میں نے اگر لکھ کر استعفیٰ دیا ہوتااور اسے الیکشن کمیشن نے منظور کیا ہوتا تو میں آج پارٹی کا صدر نہ ہوتا جس کے بعد بلوچستان عوامی پارٹی کی جنرل کونسل یا ایگزیکٹو کمیٹی اس حوالے سے فیصلہ لیتی لیکن یہ سب چیزیں نہیں ہوئی اب ہمیں اس بات پر توجہ دینی ہے کہ بلوچستان عوامی پارٹی میں انتخابات کروائیں اور جو بلوچستان عوامی پارٹی کا صدر،جنرل سیکرٹری بننا چاہے تو سامنے آئیں اور انہیں پارٹی کے لوگ منتخب کریں۔انہوں نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ اگر بلوچستان عوامی پارٹی کے لوگ خوش نہیں ہیں تو میں اپنی ذمہ داریاں چھوڑنے کے لئے تیار ہوں اس کے بعد پارٹی کے دوستوں نے کہا کہ میں کام جاری رکھوں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پانچ کے بجائے چار سال کے انتخابات ہونے چاہیئں تاکہ عوام فیصلہ کریں کہ انکے حق میں کون بہتر کام کر رہا ہے میری خواہش ہے کہ یہ حکومت ہم سے زیادہ بہتر کام کرے کبھی نہیں چاہیں گے کہ حکومت ناکام ہو انہوں نے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی کا اجلاس بلائیں گے جس میں پارلیمنٹریز، پارٹی عہدیداروں، کارکنوں کے ساتھ ملکر ایک طریقہ کار بنائیں گے کہ پارٹی کو کیسے آگے لیکر چلیں اور انٹر پارٹی انتخابات کروائے جائیں انہوں نے کہا کہ اسمبلی ضرور جاؤنگا اور حکومت کا حصہ ہوتے ہوئے حکومت میں بیٹھونگا لیکن دوستوں کو حکومت کے حوالے سے مشورہ اور تنقید برائے اصلاح دیں گے ہماری نیت نہیں ہے کہ غیر ضروری سنسنی پیدا کریں انہوں نے کہا کہ نئی حکومت ہماری پالیسی کو جاری رکھے تاکہ ترقیاتی اہداف حاصل کرنے میں معاونت فراہم ہو انہوں نے کہا کہ ناراض دوستوں کو منانے اور سسٹم کو دوبارہ ٹریک پر لانے کی کوشش کی لیکن محسوس ہوا کہ کچھ چیزیں جب بہتر ہوتی تھیں تو اپوزیشن اور کچھ لوگو ں کی وجہ سے ایسی صورتحال بنا دی گئی کہ جہاں غیر ضروری طور پر بلوچستان عوامی پارٹی کو رسک پر نہیں رکھا جا سکتا میں نے یہ سوچ کر استعفیٰ دیا کہ تحریک عدم اعتماد میں میں اور اتحادی ایک طرف ہوں اور ناراض ارکان اپوزیشن کے ووٹوں کی مدد سے اسے کامیاب بنائیں جب اختلاف شدید ہوگئے تو دور اندیشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے استعفیٰ دیا وزیراعلیٰ کی کرسی کسی ذاتی میراث نہیں ہے تمام محرکات کو دیکھتے ہوئے محسوس کیا کہ اگر مائنس ون کا فارمولہ بلوچستان، بی اے پی اور حکومت کے مفاد میں جا تا ہے تو جام کمال خان ضدی آدمی نہیں ہے کہ آخر تک ڈٹا رہتا کہ جو بھی نقصان ہوجائے میں استعفیٰ نہیں دونگا آخر بھی اس بات پر اتفاق ہوا کہ جمہوری سسٹم کا حصہ رہتے ہوئے ہم چیزوں کو بہتری کی طرف لیکر جائیں انہوں نے کہا کہ میرے استعفے سے متعلق ماحول بنا چیزیں بہتر نہیں ہوئیں تو جمہوری عمل اور اتحادیوں کی مشاورت و اتفاق سے مستعفیٰ ہوا تمام اتحادی جماعتوں نے قربانی دیں انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں تبدیلی کے مثبت تنائج دیکھنا چاہتے ہیں یہ نہ ہو کہ نئی حکومت سیاسی بحران کا شکار رہے جس کی وجہ سے صوبے کی ترقی کا عمل سست ہو اور گورننس بہتر نہ ہوسکے وزیراعلیٰ میر عبدالقدوس بزنجو اور کابینہ کو سیاسی بحران کے فیز سے نکلنا چاہیے اب مزید تاخیر نہیں ہوسکتی بجٹ منظور ہونے کے بعد سے آج تک اپوزیشن نے پانچ ماہ تک احتجاج کرکے صوبے کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے ابھی بھی ہم اسکا شکار رہے تو خدشہ ہے کہ پورا بجٹ ضائع ہوسکتا ہے انہوں نے کہا کہ ساڑھے تین سال حکومت چلائی ہے گورننس کے معاملات کو سمجھتے ہیں ہم اپنی رائے دیتے رہیں گے فی الحال گورننس اور سروس ڈیلوری پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے مفاد میں ہر چیز پر کٹ لگائیں ظہور بلیدی نے بجٹ پیش کیا اور جن چیزوں کی طرف انہوں نے ابھی نشاندہی کی ہے انہوں نے ان تمام چیزوں کی حمایت کی حکومت کبھی بھی ایک معاملے کو لیکر نہیں چلتی تمام معاملات کی طرف توجہ دینی پڑتی ہے حکومت عوام کی ضروریات کا خیال رکھتی ہے کھیل اور کھیل کے میدان کے بلوچستان کے لئے ضروری ہیں کیا حکومت نے اگر صحت،تعلیم، پانی، سڑکوں، میونسپل کمیٹیوں کے لئے پیسے نہ رکھے ہوتے تو پھر سب کچھ کاٹ دیتے مگر ہم نے جو بجٹ بنایا اس
میں تمام سیکٹرز میں منصوبے رکھے ہیں صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ بجٹ صحت کے لئے رکھا گیا ہے انہوں نے کہا کہ معاملات کو صرف سیاسی حوالے سے نہ دیکھا جائے ظہور بلیدی ہماری ٹیم میں تھے ہم سب نے ملکر بجٹ پیش کیا تھا جسے عوام نے سراہا بھی ہے ظہور بلیدی نے بجٹ پر مجھ سے زیادہ بحث کی ہے انہوں نے کہا کہ انفرادی منصوبے ضرور ہٹائے جائیں لیکن بلوچستان کے مفاد میں منصوبوں کو قائم رکھا جائے حکومتیں طویل المدتی منصوبے بناتی ہیں جو عوام کو فائدہ دیتے ہیں۔
میری خواہش ہے کہ یہ حکومت ہم سے زیادہ بہتر کام کرے کبھی نہیں چاہیں گے کہ حکومت ناکام ہو، جام کمال

ٹیگز:
جام کمال
