کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علماء اسلام بلوچستان کی صوبائی مجلسِ عاملہ اور پارلیمانی اراکین کا اہم اجلاس صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمٰن کے اصولی مؤقف اور مرکزی شوریٰ کے فیصلوں کی مکمل تائید کرتے ہوئے صوبے بھر کے کارکنوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ قائد جمعیت کے ہر حکم اور اشارے کے لیے تیار رہیں، کسی بھی ممکنہ سیاسی صورتحال کے پیش نظر اپنی تنظیمی و احتجاجی تیاری مکمل رکھیں اور صوبائی، ضلعی، تحصیل اور یونٹوں کی سطح پر تنظیمی سرگرمیوں کا فوری آغاز پوگا۔ اجلاس میں بلوچستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور امن و امان کی صورتحال پر گہری تشویش اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صوبے میں کاروباری سرگرمیاں مفلوج، بے روزگاری میں اضافہ، قانون کی حکمرانی کمزور، قتل و غارت گری اور بدامنی کے واقعات معمول بنتے جا رہے ہیں، جبکہ قومی شاہراہیں بھی عوام کے لیے غیر محفوظ ہوچکی ہیں۔ حکومت عوام کو تحفظ، روزگار اور بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے اور حکومتی گرفت کمزور پڑ چکی ہے۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دینی مدارس کی رجسٹریشن اور ان کے انتظامی و قانونی معاملات پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، حکومت فوری طور پر مدارس کی رجسٹریشن سے متعلق بل بلوچستان اسمبلی میں پیش کرے۔ اسی طرح مائنز اینڈ منرلز کے حوالے سے تیار کردہ ڈرافٹ کو فوری طور پر بلوچستان اسمبلی میں پیش کرنے اور اس پر نظرثانی و ضروری قانون سازی کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ حکومت نے اس سلسلے میں جو وعدے کیے ہیں، انہیں فوری طور پر پورا کیا جائے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی امیر سینیٹر مولانا عبدالواسع نے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں بیشتر سیاسی جماعتیں مفادات اور مصلحتوں کی سیاست میں مصروف ہیں، جبکہ جمعیت علماء اسلام اور اس کے قائد مولانا فضل الرحمٰن تنِ تنہا عوام کے حقوق، آئین کی بالادستی، جمہوری اقدار اور دینی تشخص کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور ان کے آئینی و جمہوری مؤقف کو متنازع بنانے کی کوششیں دراصل ملک کو آئینی، جمہوری اور پرامن سیاسی ماحول سے نکال کر تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہیں۔ پاکستان کو امریکی اور اسرائیلی قوتوں کے اشاروں پر کسی جنگ کا میدان بنانے کی کوششیں ملک و قوم کے مفاد میں نہیں، جمعیت علماء اسلام ایسی کسی بھی صورتحال کو پیدا کرنے یا ملک کو انتشار کی طرف دھکیلنے کی اجازت نہیں دے گی۔ انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام آئین، جمہوریت، پارلیمانی جدوجہد اور پرامن سیاسی تحریک پر یقین رکھتی ہے اور اپنے اصولی مؤقف سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگی۔ اس موقع پر صوبائی سیکرٹری جنرل آغا محمود شاہ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علماء اسلام بلوچستان کے مختلف اضلاع کے دوروں کے دوررس نتائج برآمد ہوں گے، ان دوروں کے ذریعے تنظیمی فعالیت میں اضافہ اور عوامی رابطوں کو مزید وسعت ملے گی۔ انہوں نے کہا کہ قائد جمعیت مولانا فضل الرحمٰن کے بیانیے کی تائید اور دینی مدارس کے تحفظ کے لیے جمعیت علماء اسلام کی جدوجہد ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوگی۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ قائد جمعیت کی قیادت میں آئینی، جمہوری اور پرامن جدوجہد جاری رکھی جائے گی اور کارکن ہر مرحلے پر قیادت کے فیصلوں کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
دینی مدارس کی رجسٹریشن پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا، مولانا عبدالواسع

ٹیگز:
مولانا عبدالواسع
