لاہور(ڈیلی گرین گوادر)نگران شعبہ تعلیم حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان عفت سجاد نے راولپنڈی کے دی ایجوکیٹرز بوائز کیمپس میں دسویں جماعت کے طلباء کی جانب سے نویں جماعت کے طالب علم پر تشدد کے افسوسناک واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں طلباء کا اپنے ہی ساتھیوں کو تشدد کا نشانہ بنانا نہایت افسوسناک اور ہمارے تعلیمی و تربیتی نظام کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔ اسکول بچوں کو علم، اخلاق، برداشت اور احترامِ انسانیت سکھانے کی جگہ ہیں، لیکن اگر طلباء اپنے ساتھیوں کے لیے خوف اور عدم تحفظ کا باعث بننے لگیں تو یہ صورتحال کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
عفت سجاد نے کہا کہ راولپنڈی کے اس واقعے میں ایک کم عمر طالب علم پر تشدد کی خبر نے والدین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔ بچوں کو تعلیمی اداروں میں محفوظ ماحول فراہم کرنا اسکول انتظامیہ اور حکومت کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ محض واقعے پر افسوس کا اظہار کافی نہیں، بلکہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔
انہوں نے حکومت پنجاب اور متعلقہ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں، متاثرہ طالب علم کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے۔ اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری بھی متعین کی جائے کہ واقعہ کیسے پیش آیا اور طلباء کی حفاظت کے لیے کیا اقدامات کیے گئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت تمام تعلیمی اداروں میں طلباء کے تحفظ کے لیے مؤثر نظام وضع کرے، غنڈہ گردی اور جسمانی تشدد کے خلاف واضح ضابطۂ اخلاق نافذ کیا جائے اور اساتذہ، والدین اور طلباء کی تربیت کے ذریعے برداشت، احترام اور مثبت رویوں کو فروغ دیا جائے۔عفت سجاد نے کہا کہ بچوں کی حفاظت محض انتظامی معاملہ نہیں بلکہ ایک قومی ذمہ داری ہے۔ حکومت، تعلیمی ادارے اور والدین مل کر ایسا ماحول تشکیل دیں جہاں ہر بچہ خوف کے بجائے اعتماد کے ساتھ تعلیم حاصل کر سکے۔

