کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان سول سیکرٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کے صدر کامریڈ یونس زہری نے کہا ہے کہ موجودہ کابینہ نے گزشتہ چار سال کے دوران ملازمین کے حقوق، ترقیوں، مالی مراعات اور فلاح و بہبود کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں، جبکہ ایسوسی ایشن کی 38 سالہ تاریخ میں موجودہ کابینہ نے ریکارڈ 150 نوٹیفکیشنز جاری کروائے ہیں۔کوئٹہ پریس کلب میں یونین کی کارکردگی کے حوالے سے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کامریڈ یونس زہری نے کہا کہ بلوچستان سول سیکرٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن کا قیام 1985 میں ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے عمل میں لایا گیا تھا۔ سول سیکرٹریٹ کے ملازمین نے اپنے حقوق اور عزتِ نفس کے تحفظ کے لیے ہمیشہ قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق 24 اکتوبر 2024 کے انتخابات میں ملازمین نے ان کے پینل کو دوسری مرتبہ بھاری اکثریت سے کامیاب کیا، جبکہ گریڈ ایک سے گریڈ 15 تک تمام ملازمین کے حقوق کا تحفظ موجودہ کابینہ کی اولین ترجیح ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ کابینہ نے احتجاج، ہڑتال اور جلسے جلوس کے بجائے مذاکرات کے ذریعے ملازمین کے مطالبات منظور کروائے۔ سال 2023 میں سول سیکرٹریٹ الانس 50 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کروایا گیا، جبکہ سابقہ دور میں منجمد کیا گیا سیکرٹریٹ الانس بھی بحال کرایا گیا۔ اسی سال سول سیکرٹریٹ، وزیراعلی سیکرٹریٹ اور گورنر سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے ایک مکمل تنخواہ بطور نقد اعزاز منظور کروائی گئی، جبکہ 2024 میں گریڈ ایک سے گریڈ 15 تک ملازمین کے لیے بھی ایک ماہ کی مکمل تنخواہ بطور نقد اعزاز منظور کرائی گئی۔کامریڈ یونس زہری کے مطابق وزیراعلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کا 100 فیصد خصوصی الانس بحال کروایا گیا، جبکہ ملازمین کی تنخواہوں پر عائد ٹیکس 100 فیصد سے کم کرکے 50 فیصد کرایا گیا۔ محکمہ خزانہ، منصوبہ بندی و ترقیات، چیف سیکرٹری آفس اور وزیراعلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کے لیے چار، چار نقد اعزازات بھی منظور کروائے گئے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کے ملازمین کے لیے بی ایف فنڈ کی منظوری بورڈ سے حاصل کی گئی اور وردی والے ملازمین کے یونیفارم الانس میں چار سے پانچ ہزار روپے تک اضافہ کرایا گیا۔انہوں نے بتایا کہ ملازمین کے بچوں کے لیے پانچ کروڑ روپے کی لاگت سے معیاری اسکول کی منظوری حاصل کی گئی ہے، جس کا ٹینڈر ہو چکا ہے اور تعمیراتی کام آخری مراحل میں ہے۔ اس کے علاوہ بلوچستان کے عوام اور ملازمین کے لیے ہیلتھ کارڈ کی منظوری حاصل کی گئی، جس کے تحت ان کے بقول ملک بھر کے 1200 اسپتالوں اور کوئٹہ کے 27 نجی اسپتالوں میں علاج کی سہولت دستیاب ہے۔ سول سیکرٹریٹ کے اندر دو کروڑ روپے کی لاگت سے بنیادی صحت مرکز کی منظوری، سینارہ اور آریہ اسپتال کو محکمہ صحت کے پینل میں شامل کرانے اور سنگین امراض میں مبتلا ملازمین کے لیے 40 لاکھ روپے تک میڈیکل ایڈوانس کی سہولت بھی حاصل کی گئی۔صدر ایسوسی ایشن نے کہا کہ لواحقین کوٹہ سپریم کورٹ سے بحالی کے بعد حکومت بلوچستان سے منظور کروایا گیا، جس کے تحت تقریبا 151 افراد کو مختلف آسامیوں پر بھرتی کیا گیا۔ ان آسامیوں میں اسٹینوگرافر، جونیئر کلرک اور اسسٹنٹ کمپیوٹر آپریٹر کی آسامیاں بھی شامل ہیں۔ترقیوں اور نئی آسامیوں کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ 2023 سے 2026 کے دوران تقریبا 235 جونیئر کلرکس کو سینئر کلرک گریڈ 14، 205 سینئر کلرکس کو اسسٹنٹ گریڈ 16 اور کلاس فور کے 117 ملازمین کو جونیئر کلرک گریڈ 11 میں ترقی دلوائی گئی۔ سال 2023 اور 2024 میں 131 اسٹینوگرافرز کو گریڈ 16 میں ترقی دی گئی، جبکہ پرائیویٹ سیکرٹری کی 75 اور سپرنٹنڈنٹ گریڈ 17 کی 50 آسامیاں منظور کروائی گئیں۔انہوں نے مزید بتایا کہ ٹیلی فون آپریٹرز کا گریڈ 7 سے 11 میں اضافہ، پی اینڈ ڈی کے جنریٹر آپریٹرز کی گریڈ 5 سے گریڈ 7 میں اپ گریڈیشن اور مختلف شعبوں کے ملازمین کے لیے نئی نگران آسامیاں منظور کروائی گئیں۔ ان میں سیکیورٹی گارڈز کے لیے اسسٹنٹ سیکیورٹی آفیسر گریڈ 15 کی تین، سیکیورٹی سپروائزر گریڈ 8 کی 11، سی سی ٹی وی روم کے سینئر آپریٹر گریڈ 12 کی تین اور سول اسٹیٹ آفس کے کیئر ٹیکرز کے لیے اسسٹنٹ کنٹرولر گریڈ 16 کی دو آسامیاں شامل ہیں۔کامریڈ یونس زہری کے مطابق چوکیداروں اور مہتر ملازمین کے لیے پہلی مرتبہ اوور ٹائم منظور کرایا گیا، جبکہ مالی، ڈرائیور، پلمبر، الیکٹریشن، کار پینٹر، فراش، لک، ریسیپشن اور دیگر شعبوں کے ملازمین کے لیے ترقی کی نئی آسامیاں اور سروس رولز میں ترامیم منظور کروائی گئیں۔ وزیراعلی سیکرٹریٹ کے ملازمین کے سروس رولز میں بھی ترامیم کرکے نئے قواعد جاری کرائے گئے۔انہوں نے کہا کہ مختلف کیڈرز کے ملازمین کو پہلی مرتبہ باقاعدہ یونیفارم کی سہولت فراہم کی گئی، جبکہ بورڈ آف ریونیو کے کلاس فور ملازمین کا ترقی کا کوٹہ 20 سے بڑھا کر 25 فیصد منظور کروایا گیا۔ سول سیکرٹریٹ میں اٹیچمنٹ پر تعینات ملازمین کے احکامات منسوخ اور صوبائی وزرا، مشیروں اور پارلیمانی سیکرٹریز کے دفاتر میں اٹیچمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرسنل اسسٹنٹس اور پرائیویٹ اسسٹنٹس کی تعیناتی پر پابندی بھی لگوائی گئی۔صدر ایسوسی ایشن نے بتایا کہ ڈرائیورز کے اوور ٹائم کو 50 فیصد سے بڑھا کر 100 فیصد کرنے کی منظوری کے لیے کارروائی مکمل کرلی گئی ہے، جبکہ تقریبا 180 سینئر ڈرائیورز کو گریڈ 6 سے گریڈ 8 میں اپ گریڈ کرنے کے مالی اثرات کی منظوری حاصل کرلی گئی ہے۔ یہ معاملہ اب منظوری کے لیے اپ گریڈیشن کمیٹی میں پیش کیا جائے گا۔ اسی طرح کلاس فور ملازمین کے چارکول الانس میں اضافے کی سمری بھی منظوری کے آخری مراحل میں ہے۔کامریڈ یونس زہری نے کہا کہ ملازمین کے حقوق کے تحفظ کے لیے بلوچستان گرینڈ الائنس سے علیحدگی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ موجودہ کابینہ نے محض وعدوں اور نعروں کے بجائے عملی اقدامات کیے ہیں اور ملازمین کے بچوں کے روزگار، عزتِ نفس اور معاشی مفادات کا تحفظ ان کی جدوجہد کا بنیادی مقصد ہے۔ انہوں نے کہا کہ سول سیکرٹریٹ کے ملازمین ایسوسی ایشن کی کارکردگی اور منظور شدہ نوٹیفکیشنز سے بخوبی آگاہ ہیں۔
سول سیکرٹریٹ اسٹاف ایسوسی ایشن نے چار سال میں 150 نوٹیفکیشنز منظور کروا کر ریکارڈ قائم کیا، کامریڈ یونس زہری

ٹیگز:
کامریڈ یونس زہری
