لاہور: سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا ہے کہ قرآن مجید محض تلاوت کے لیے نہیں بلکہ ہماری انفرادی و اجتماعی زندگی کی رہنمائی اور معاشرے کی اصلاح کے لیے نازل ہوا ہے۔ قرآن کو سمجھ کر پڑھنا، اس پر عمل کرنا، اس کی تعلیمات دوسروں تک پہنچانا اور زندگی کے مختلف شعبوں میں ان کے نفاذ کی کوشش کرنا ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے۔ قرآن سے حقیقی وابستگی اسی وقت ثابت ہوتی ہے جب اس کی تعلیمات ہمارے کردار اور عملی زندگی میں نمایاں نظر آئیں۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے منصورہ لاہور میں پی پی 168 کے زیر اہتمام تقریبِ تکمیلِ فہم القرآن کورس میں خصوصی شرکت کے موقع پر کیا۔ اس موقع پر ڈپٹی سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ثمینہ سعید، ڈاکٹر زبیدہ جبیں اور ناظمہ حلقہ لاہور عظمیٰ عمران بھی موجود تھیں۔ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے قرآن سیکھنے اور سکھانے والوں کو بہترین انسان قرار دے کر امت کے سامنے کامیابی کا حقیقی معیار واضح فرما دیا۔ آج ہمارے معاشرے میں کامیابی کو عموماً دولت، عہدے، آسائشوں اور بڑے بڑے محلات سے ناپا جاتا ہے، حتیٰ کہ ہم اپنی اولاد کے لیے بھی یہی اہداف مقرر کرتے ہیں، جبکہ ایک مسلمان کی اصل کامیابی یہ ہے کہ وہ قرآن کی تعلیمات سے اپنی زندگی سنوارے اور اپنے علم و کردار سے دوسروں کی رہنمائی کرے۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید کی تعلیم حاصل کرنا ایک عظیم سعادت ہے، لیکن اس کے ساتھ ایک بڑی ذمہ داری بھی وابستہ ہے۔ فہم القرآن کورس کی تکمیل دراصل ایک نئے سفر کا آغاز ہے۔ اب ضروری ہے کہ شرکاء اپنی زندگیوں کا جائزہ لیں، قرآن کے پیغام کو اپنے گھروں اور خاندانوں تک پہنچائیں اور اپنے اردگرد کے لوگوں کو بھی اس سے جوڑیں۔ قرآن کے حقوق میں اس کی درست تلاوت، فہم، تدبر، عمل اور اس کی تعلیمات کی تبلیغ شامل ہیں؛ اس لیے قرآن سے تعلق محض الفاظ پڑھنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے بلکہ اس کے اثرات ہمارے رویوں اور فیصلوں میں بھی دکھائی دینے چاہییں۔
سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو قرآن و سنت کی روشنی میں انسانیت کی رہنمائی کی ذمہ داری سونپی ہے۔ نبی کریم ﷺ کے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہو چکا، اب آپ ﷺ کی تعلیمات کو آگے پہنچانا امت کی ذمہ داری ہے۔ حجۃ الوداع کے موقع پر رسول اللہ ﷺ کی ہدایات بھی ہمیں پیغام پہنچانے اور اسے دوسروں تک منتقل کرنے کی اہمیت یاد دلاتی ہیں۔ لہٰذا قرآن سیکھنے والی خواتین اپنے علم کو اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں ناانصافی، ظلم، بے حسی، اخلاقی زوال اور خاندانی نظام کے مسائل بڑھ رہے ہیں۔ ان حالات میں قرآن کی رہنمائی سے انحراف مسائل کا حل نہیں، بلکہ اس کی تعلیمات کو سمجھنا اور عملی زندگی میں اختیار کرنا ناگزیر ہے۔ مسلمان خواتین کو چاہیے کہ وہ اپنے گھروں کی تربیت، بچوں کی کردار سازی، خاندانی تعلقات کی بہتری اور معاشرتی اصلاح میں قرآن کی روشنی کو عام کریں۔ قرآن سے وابستگی ایسی نسل تیار کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے جو حق و باطل میں فرق پہچانے، ظلم کے خلاف آواز اٹھائے اور عدل و انصاف کو اپنی زندگی کا اصول بنائے۔

ڈاکٹر حمیرا طارق نے مزید کہا کہ قرآن مجید انسان کو صرف انفرادی نیکی ہی نہیں سکھاتا بلکہ ایک عادلانہ اور ذمہ دار معاشرے کی تشکیل کی رہنمائی بھی کرتا ہے۔ اس لیے قرآن کے پیغام کو سمجھنے کے بعد ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس کی اقدار کو اپنے کردار اور اجتماعی زندگی میں جگہ دیں۔ خواتین اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے قرآن فہمی کے حلقوں کو وسعت دیں اور زیادہ سے زیادہ افراد کو کتابِ ہدایت سے جوڑنے کا عزم کریں۔تقریب میں کورس مکمل کرنے والی شرکاء نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ فہم القرآن کورس ان کے لیے دلچسپ، علم افزا اور فکر و کردار میں مثبت تبدیلی کا ذریعہ ثابت ہوا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ حاصل کردہ علم کو اپنی زندگیوں میں اپنانے کے ساتھ دوسروں تک بھی پہنچائیں گی۔پروگرام کے اختتام پر ڈاکٹر حمیرا طارق نے شرکاء کی حوصلہ افزائی کی اور کورس کی تکمیل پر انہیں اسناد پیش کیں۔

