لاہور(ڈیلی گرین گوادر)سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق،صدر وسطی پنجاب نازیہ توحید ،صدر لاہورعظمی عمران نے اسلام آباد میں نوجوان طالبہ لائبہ اعجاز کی المناک موت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ واقعے کی شفاف، غیر جانب دارانہ اور جامع تحقیقات کی جائیں اور مبینہ فراڈ میں ملوث تمام افراد کو قانون کے مطابق قرار واقعی سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ اطلاعات کے مطابق لائبہ اعجاز اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ جانے کی خواہش رکھتی تھیں، تاہم ان کے اہل خانہ کو امریکی یونیورسٹی میں داخلے، اسکالرشپ اور ویزے کے نام پر مبینہ دھوکہ دہی کا سامنا کرنا پڑا۔ جعلی دستاویزات اور بھاری رقوم کی وصولی کے الزامات نے ایک خاندان کو شدید صدمے سے دوچار کر دیا۔ یہ واقعہ نوجوانوں کے تعلیمی خوابوں، والدین کی امیدوں اور شہریوں کے تحفظ کے حوالے سے نہایت تشویش ناک ہے۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ کسی نوجوان کو دھوکہ دہی، بلیک میلنگ اور شدید ذہنی دباؤ کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا ایک سنگین معاشرتی ناکامی ہے۔ ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے محض نوٹس لینا کافی نہیں، بلکہ ان جرائم کے اسباب کا خاتمہ اور مؤثر حفاظتی نظام قائم کرنا ضروری ہے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ:لائبہ اعجاز کیس کی مکمل تحقیقات کرکے تمام مبینہ سہولت کاروں اور معاونین کو قانون کے مطابق جواب دہ بنایا جائے۔بیرونِ ملک تعلیم، اسکالرشپ، ملازمت اور ویزوں کے نام پر فراڈ کرنے والے غیر قانونی ایجنٹوں کے خلاف مؤثر کارروائی کی جائے۔
تعلیمی اداروں، ویزا ایجنسیوں اور اسکالرشپ آفرز کی تصدیق کے لیے قابلِ رسائی سرکاری نظام بنایا جائے تاکہ طلبہ اور والدین جعل سازی سے محفوظ رہ سکیں۔سائبر فراڈ، بلیک میلنگ اور مالی دھوکہ دہی کی شکایات پر فوری کارروائی، متاثرین کی رازداری اور قانونی معاونت یقینی بنائی جائے۔نوجوانوں کے لیے تعلیمی اداروں میں نفسیاتی مشاورت اور ہنگامی مدد کے مؤثر مراکز قائم کیے جائیں تاکہ شدید ذہنی دباؤ کے شکار افراد بروقت مدد حاصل کرسکیں۔
ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ والدین اپنی جمع پونجی بچوں کے روشن مستقبل کے لیے صرف کرتے ہیں۔ ان کے خوابوں اور اعتماد سے کھیلنے والوں کے خلاف ریاست کو مضبوط اور مستقل اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے زور دیا کہ لائبہ اعجاز کے اہل خانہ کو انصاف فراہم کیا جائے اور اس سانحے کو ایک ایسے مؤثر نظام کی تشکیل کا نقطۂ آغاز بنایا جائے جو کسی دوسرے خاندان کو اس کرب سے گزرنے سے بچا سکے

