کچھ لوگ اپنی زندگی اپنے لیے جیتے ہیں، کچھ اپنے خاندان کے لیے، لیکن تاریخ میں ہمیشہ وہ لوگ یاد رکھے جاتے ہیں جو اپنی زندگی دوسروں کے دکھ کم کرنے، بھٹکے ہوئے انسانوں کو راستہ دکھانے اور معاشرے کے نظرانداز کیے گئے طبقات کو دوبارہ عزتِ نفس دینے کے لیے وقف کر دیتے ہیں۔ یہ وہ شخص ہے جس نے نشے میں ڈوبتی زندگیوں کو سہارا دیا۔ جی ہاں، محترم جاوید بلوچ صاحب بھی انہی عظیم انسانوں میں سے ایک ہیں۔منشیات کے خلاف جس مستقل مزاجی، اخلاص اور جذبۂ خدمت کے ساتھ جاوید بلوچ نے جدوجہد کی، شاید ہی اس شعبے میں کوہی ان کا مقابلہ کر سکیں۔ انہوں نے منشیات کے عادی افراد کو صرف ایک مریض نہیں سمجھا، بلکہ انہیں ایک ایسے انسان کے طور پر دیکھا جسے علاج کے ساتھ ساتھ محبت، توجہ، عزت اور معاشرے میں دوبارہ مقام کی ضرورت ہوتی ہے۔جنہیں معاشرے نے ٹھکرایا، جاوید بلوچ نے انہیں گلے لگایا۔
منشیات کے علاج کے لیے قائم ادارے اور اس کی خدمت دراصل ان کی زندگی کا ایک اہم مشن بن گئی تھی۔ انہوں نے اپنی جوانی سے لے کر ریٹائرمنٹ تک اپنی صلاحیتیں، وقت اور توانائیاں ان لوگوں کے لیے صرف کیں۔ صبحِ صادق سے لے کر رات گئے تک ان کی خدمت میں کھڑے رہے جنہیں معاشرہ اکثر حقارت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ جن افراد سے بعض اوقات اپنے رشتہ دار، بھاہی، ماں باپ، دوست اور حتیٰ کہ سرکاری ادارے بھی منہ موڑ لیتے ہیں، جاوید بلوچ صاحب نے انہی لوگوں کے لیے اپنے دل کے دروازے کھولے، جو نشے کے اندھیروں میں بھٹک رہے تھے۔ ان کے لیے یہ ادارہ امید کے چراغ کی حیثیت رکھتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں ایک ملازمت اور ایک خدمت میں فرق واضح ہوتا ہے۔
ایک شخص، ایک مشن، ہزاروں زندگیوں کی امید۔۔۔۔۔۔۔۔
ملازمت وقت مانگتی ہے، مگر انسانیت خدمت کے لیے پوری زندگی مانگتی ہے۔جاوید بلوچ کی خدمات، انسانیت کے لیے ایک بے مثال سفر ہیں۔
جاوید بلوچ نے منشیات کے عادی افراد کے لیے ایک ایسا ماحول بنانے کی کوشش کی جہاں علاج محض دواؤں تک محدود نہ تھا، بلکہ باقاعدہ ہسپتال کا نظم و ضبط، روزمرہ زندگی میں پابندی، تربیتی لیکچرز، کھیل کود، باجماعت نماز کی ادائیگی، تعلیم اور بہترین کھانے پینے کی سہولیات یہ سب اس باشعور سوچ کا حصہ تھیں کہ ایک انسان کو نشے سے نکالنے کے لیے صرف اس کے جسمانی علاج کافی نہیں، بلکہ اس کے ذہن، کردار، روح اور شخصیت کی بھی تعمیر ضروری ہے۔ ان کے اندر یہ کمال کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا کہ وہ دوسروں کے بیٹوں کو اپنا بیٹا سمجھتے تھے۔یہی وجہ ہے کہ ان کی جدوجہد محض منشیات کے خلاف جنگ نہیں تھی، یہ انسان کو دوبارہ انسان بنانے کی کوشش تھی۔ وہ شخص گزشتہ 35 سال سے ٹوٹے ہوئے انسانوں کو جوڑنے کی کوشش کرتے رہے۔وہ نوجوان جو نشے کی وجہ سے اپنے خاندان، تعلیم، روزگار اور مستقبل سے دور ہو چکے تھے، ان کے لیے ایسے ادارے کا ماحول امید کی ایک نئی کرن بن سکتا تھا۔ وہاں انہیں یہ احساس دلایا جاتا تھا کہ ان کی زندگی ختم نہیں ہوئی، ان کے لیے واپسی کا راستہ اب بھی موجود ہے اور معاشرہ انہیں ہمیشہ کے لیے مسترد نہیں کر چکا ہے۔ ایسی سینکڑوں مثالیں موجود ہیں جہاں ان کی مسلسل محنت و جدوجہد کی وجہ سے کسی گندے نالے سے کسی کا بیٹا واپس گھر پہنچا تو کسی کی دنیا آباد ہو گئی۔
نشے میں مبتلا انسان کو سزا دینے سے زیادہ ضروری ہے کہ اسے یہ یقین دلایا جائے کہ وہ دوبارہ زندگی شروع کر سکتا ہے۔نشے کے شکار انسانوں میں دہائیوں سے زندگی کی امید جگانے والا یہ شخص ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کانٹوں بھری راہوں کا مسافر ہے۔جاوید بلوچ کی سب سے بڑی خوبی شاید یہی تھی کہ انہوں نے ان لوگوں کو صرف ان کی بیماری کے حوالے سے نہیں دیکھا۔ انہوں نے ان کے اندر موجود انسان کو تلاش کیا۔ انہوں نے ایڈز اور ہیپاٹائٹس بی، سی کے مریضوں کو بھی گلے لگاتے ہوئے انہیں زندگی کا درس دیا، ڈسپلن سکھایا، مصروف رکھا، کھیلوں کی طرف راغب کیا، نماز اور دینی ماحول سے جوڑا، تعلیم کی طرف متوجہ کیا اور بہتر خوراک و رہائش فراہم کرنے کی کوشش کی، یہاں تک کہ زندگی ہارنے والوں کو بھی جینے کا حوصلہ فراہم کیا۔یہ تمام اقدامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ان کی نظر میں علاج صرف دوا کا نام نہیں تھا، بلکہ کردار سازی، تربیت اور معاشرے میں باعزت واپسی کا نام بھی علاج تھا۔جاوید بلوچ نے دوسروں کی زندگی سنوارنے میں اپنی جوانی گزار دی۔جاوید بلوچ منشیات کے خلاف جنگ کے خاموش سپاہی ہیں۔ ہمیں ایسے لوگوں کی قدر اس وقت زیادہ محسوس ہوتی ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں کتنے لوگ مسائل سے دوچار افراد سے دور بھاگتے ہیں۔ نشے کے عادی افراد کو اکثر صرف ایک لفظ سے پکار کر ان کی پوری شخصیت پر فیصلہ صادر کر دیا جاتا ہے، حالانکہ ہر نشے کے پیچھے ایک کہانی، ایک خاندان، ایک دکھ، ایک کمزوری اور کبھی کبھی ایک ایسا المیہ چھپا ہوتا ہے جسے سمجھنے کے لیے انسان کے اندر بہت بڑا دل چاہیے۔
نشے کے خلاف جہاد اور انسانیت کی خدمت ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتی۔
جاوید بلوچ نے اسی بڑے دل کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کی زندگی، خدمات، اخلاص، اخلاق اور انسان دوستی کی ایک عظیم داستان ہے۔
انہوں نے گرے ہوئے لوگوں کو انگلی سے نہیں اٹھایا، بلکہ ہاتھ بڑھا کر اٹھانے کی کوشش کی۔ان کی یہ خدمت اس لیے بھی قابلِ تحسین ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کا ایک بڑا حصہ ایسے طبقے کے لیے وقف کیا جسے معاشرہ اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔ یہ وہ خدمت ہے جس کی تشہیر سے زیادہ دعا کی ضرورت ہوتی ہے، اور جس کا اصل صلہ شاید دنیا کے کسی اعزاز سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے ہاں ملتا ہے۔آج جب ہم محترم جاوید بلوچ صاحب کی خدمات کو یاد کرتے ہیں تو دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس جدوجہد کو اپنی بارگاہ میں قبول فرمائے، ان کے خلوص کو اجرِ عظیم عطا فرمائے، ان کی صحت، عمر اور عزت میں برکت دے، اور ان کے بچوں اور پورے خاندان کو خوشیوں، سلامتی اور کامیابیوں سے نوازے۔ایسے انسان دراصل کسی ایک نسل، ایک قوم، ایک ادارے کے نہیں ہوتے، وہ پوری انسانیت کا اثاثہ ہوتے ہیں۔کسی انسان کو دوبارہ زندگی کی طرف لوٹانے کی کوشش سے بڑی خدمت شاید ہی کوئی ہو۔
محترم جاوید بلوچ صاحب نے اپنی زندگی کے قیمتی سال ایک ایسے مقصد کے لیے صرف کیے جس کا فائدہ صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ پورے خاندان اور پورے معاشرے کو پہنچتا ہے۔ ایک شخص نشے سے نکلتا ہے تو صرف ایک زندگی نہیں بچتی، ایک ماں کا بیٹا واپس آتا ہے، ایک باپ کا سہارا واپس آتا ہے، ایک بہن کا بھائی واپس آتا ہے، ایک بیوی کا شوہر واپس آتا ہے اور ایک خاندان کا مستقبل دوبارہ آباد ہوتا ہے۔
یہی کسی خدمت کی اصل عظمت ہے۔ہم دل کی گہرائیوں سے محترم جاوید بلوچ صاحب کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہیں اور دعا کرتے ہیں:یا اللہ! جس شخص نے اپنی زندگی تیرے بندوں کی زندگی سنوارنے میں صرف کی، تو اس کی زندگی کو اپنی رحمت، برکت اور خوشیوں سے بھر دے۔ اسے صحت و سلامتی کے ساتھ طویل عمر عطا فرما، اس کے اہلِ خانہ کو اپنی حفظ و امان میں رکھ، اس کی تمام خدمات کو صدقۂ جاریہ بنا اور اسے دنیا و آخرت میں بہترین اجر عطا فرما۔ آمین ثم آمین۔
جاوید بلوچ صاحب جیسے لوگ معاشرے میں خاموشی سے چراغ جلاتے ہیں۔ شاید ان کے ہاتھ میں کوئی بڑا اعزاز نہ ہو، مگر ان کے کردار میں وہ روشنی ضرور ہے جو کئی بھٹکی ہوئی زندگیوں کو راستہ دکھا سکتی ہے۔انسانیت کی تاریخ میں سب سے خوبصورت نام انہی لوگوں کے ہوتے ہیں جو کسی بے سہارا انسان کے لیے امید بن جاتے ہیں۔ریٹائرمنٹ ختم ہوئی، خدمت کا سفر جاری ہے
جاوید بلوچ، بھٹکی ہوئی زندگیوں کے مسیحا تحریر۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹر محبوب شاہ

ٹیگز:
جاوید بلوچ
