نیویارک (ڈیلی گرین گوادر) آج کا فائرنگ کا واقعہ واشنگٹن ہلٹن ہوٹل میں پیش آیا، وہی ہوٹل کہ جہاں سنہ 1981 میں رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔ یہ واقعہ 30 مارچ 1981 کو پیش آیا تھا کہ جب حملہ آور جان ہنکلی جونیئر نے اس وقت کے صدر ریگن پر اس وقت فائرنگ کی جب وہ ہوٹل کے اندر ایک خطاب کے بعد اپنی لیموزین کی طرف واپس جا رہے تھے۔ریگن اس حملے میں زندہ بچ گئے تھے تاہم انھیں اس وقت شدید چوٹیں آئیں جب ایک گولی صدر کی لیموزین کے پہلو سے ٹکرا کر ان کے جسم میں لگی۔ جس سے ان کی ایک پسلی ٹوٹ گئی اور پھیپھڑوں میں سے ایک کو نقصان پہنچا تھا۔انھیں اس واقعے کے فوری بعد قریبی جارج واشنگٹن یونیورسٹی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا جہاں سے وہ 11 اپریل کو ڈسچارج ہوئے تھے۔اس وقت کے وائٹ ہاؤس پریس سیکریٹری جیمز بریڈی بھی اسی واقعے میں زخمی ہوئے تھے جبکہ ایک سیکرٹ سروس اہلکار اور میٹروپولیٹن پولیس کا ایک مقامی افسر بھی زخمیوں میں شامل تھے۔بریڈی کو اس واقعے میں دماغی چوٹ آئی جس کے باعث وہ زندگی بھر معذوری کا شکار رہے اور ان کی یہ حالت بعد ازاں سنہ 2014 میں ان کی وفات تک برقرار رہی۔بعد ازاں اگلے سال جان ہنکلی جونیئر کو ذہنی بیماری کی بنا پر مجرم قرار نہیں دیا گیا، تاہم انھیں واشنگٹن کے سینٹ الزبتھ ہسپتال کے انتہائی سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا جہاں سے انھیں سنہ 2016 میں رہا کیا گیا۔آج بھی اس فائرنگ کے مقام پر ہوٹل کی دیوار پر ایک تختی نصب ہے جو اس واقعے کی یاد دلاتی ہے۔
ٹرمپ پرآج کی فائرنگ اسی مقام پر ہوئی جہاں 1981 ء میں صدر ریگن پر قاتلانہ حملہ ہوا تھا

ٹیگز:
ٹرمپ
