کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)جمعیت علما اسلام ضلع کوئٹہ کے امیر شیخ الحدیث مولانا عبدالرحمن رفیق، سیکرٹری جنرل حاجی عین اللہ شمس اور دیگر رہنماں نے کوئٹہ شہر میں اشیائے خورد و نوش کی بڑھتی قیمتوں اور پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی مبینہ بدعنوانی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رہنماں کا کہنا ہے کہ حکومتی مشینری عوامی مسائل سے مکمل غافل ہو چکی ہے اور پرائس کنٹرول کمیٹیاں قیمتیں کنٹرول کرنے کے بجائے دکانداروں سے بھاری رشوت وصول کرنے میں مصروف ہیں۔جے یو آئی(ف) کے رہنماں بشمول مولانا خورشید احمد، حاجی بشیر احمد کاکڑ، حاجی صالح محمد نورزئی، مفتی رضا خان، حاجی ظفر اللہ کاکڑ، میر سرفراز شاہوانی، میر حشمت لہڑی، سیٹھ اجمل بازئی، سالار مولوی علی جان، مولانا سید سعد اللہ آغا اور مولوی نقیب اللہ ملاخیل نے کہا کہ کوئٹہ شہر عملا “شہرِ نا پرساں ” بن چکا ہے۔ سرکاری نرخ نامے محض کاغذی کارروائی ہیں اور ہر گلی بازار میں من مانی قیمتیں وصول کی جا رہی ہیں، جس کا بوجھ غریب عوام پر پڑ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عوام مہنگائی اور بے روزگاری کے عذاب میں مبتلا ہیں جبکہ حکمران طبقہ زمینی حقائق سے بے خبر ہے۔ رہنماں نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر پرائس کنٹرول نظام کو شفاف اور مثر بنائے اور عوام کو لوٹنے والے رشوت خور اہلکاروں و منافع خور مافیا کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے۔
کوئٹہ،پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی مبینہ رشوت خوری، جے یو آئی کا حکومتی مشینری کی خاموشی پر شدید ردعمل

ٹیگز:
کوئٹہ
