کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)حکومتِ بلوچستان کے محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بلوچستان ایسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ 2019 کے تحت صوبے بھر میں تعلیمی اداروں میں ہڑتالوں، لاک آٹس اور دیگر غیر قانونی سرگرمیوں پر چھ ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔ اس سلسلے میں باضابطہ نوٹیفکیشن 29 دسمبر 2025 کو جاری کر دیا گیا ہے، جو بلوچستان گزٹ کے آئندہ شمارے میں شائع کیا جائے گا۔نوٹیفکیشن کے مطابق حکومتِ بلوچستان نے تعلیمی خدمات کو لازمی خدمات قرار دے رکھا ہے، جبکہ مذکورہ ایکٹ کے تحت تعلیمی عملے کی جانب سے ہڑتال، لاک آٹ یا کسی بھی غیر قانونی طریقہ کار کی سختی سے ممانعت ہے، اور اس کی خلاف ورزی پر سزاں کا بھی تعین کیا گیا ہے۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد صوبے میں تعلیمی نظام کو اس کے حقیقی مقاصد کے مطابق جاری رکھنا اور طلبہ کے تعلیمی مستقبل کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔محکمہ اسکول ایجوکیشن نے بلوچستان ایسنشل ایجوکیشن سروسز ایکٹ 2019 کی شق 6 کے تحت حاصل اختیارات استعمال کرتے ہوئے فوری طور پر صوبے کے تمام سرکاری تعلیمی اداروں میں ہر قسم کی ہڑتال اور غیر قانونی سرگرمیوں پر پابندی نافذ کر دی ہے، جو چھ ماہ تک مؤثر رہے گی۔
بلوچستان میں تعلیمی خدمات لازمی قرار، تعلیمی اداروں میں ہڑتالوں پر 6ماہ کی پابندی عائد کردی

ٹیگز:
بلوچستان
