کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اور پنجاب کو ملانے والی اہم ریلوے سروس جعفر ایکسپریس کو ہفتے کے روز سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے کے باعث جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا۔ سیکیورٹی اداروں کی جانب سے ممکنہ خطرات کے پیش نظر ٹرین کو اگلے سفر کے لیے کلیئرنس نہ مل سکی جس کے نتیجے میں درجنوں مرد، خواتین، بزرگ اور بچے کئی گھنٹوں تک پلیٹ فارم پر انتظار میں بیٹھے رہے ٹرین کی بندش کے باعث مسافروں کو گرمی، پیاس اور بنیادی سہولیات کے فقدان جیسے سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ متعدد مسافروں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نہ تو کسی قسم کی پیشگی اطلاع دی گئی اور نہ ہی متبادل سفری سہولیات فراہم کی گئیں ایک خاتون مسافر کا کہنا تھا کہ ہم لاہور سے کوئٹہ جا رہے تھے، لیکن یہاں آ کر ٹرین روک دی گئی۔ بچوں کے لیے دودھ، پانی اور کھانے پینے کی اشیا ختم ہو گئی ہیں۔ انتظامیہ بالکل بے حس نظر آتی ہے ریلوے ذرائع کے مطابق، جعفر ایکسپریس کو روکنے کا فیصلہ سیکیورٹی اداروں کی رپورٹ کی روشنی میں کیا گیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹرین کو کوئٹہ سیکٹر میں داخل ہونے سے پہلے مکمل سیکیورٹی کلیئرنس درکار ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی یا تخریب کاری سے بچا جا سکے جعفر ایکسپریس بلوچستان اور پنجاب کے درمیان ایک اہم ریلوے لنک ہے، جو روزانہ ہزاروں مسافروں کو خدمات فراہم کرتی ہے۔ ماضی میں اس ٹرین کو دہشت گردی کا نشانہ بھی بنایا جا چکا ہے، جس کے باعث اس پر سیکیورٹی خدشات ہمیشہ سے موجود رہے ہیں۔
جعفر ایکسپریس کو سیکیورٹی کلیئرنس نہ ملنے پر جیکب آباد اسٹیشن پر روک دیا گیا

ٹیگز:
جعفر ایکسپریس
