کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی) کے سربراہ اور سابق وزیراعلی بلوچستان سردار اختر جان مینگل نے آج ہفتہ، 13 ستمبر 2025 کو کوئٹہ میں ایک اہم سیاسی اجلاس طلب کر لیا ہے۔ اجلاس کا مقصد موجودہ ملکی و صوبائی سیاسی صورت حال پر مشاورت اور ممکنہ سیاسی اتحاد کی تشکیل پر غور کرنا ہے۔باوثوق ذرائع کے مطابق، سردار اختر مینگل کی جانب سے پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی، عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما ایمل ولی خان اور نیشنل پارٹی کے صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ کو خصوصی دعوت نامے ارسال کیے گئے ہیں۔یہ اجلاس ایسے وقت میں طلب کیا گیا ہے جب بلوچستان سمیت ملک بھر میں سیاسی و معاشی عدم استحکام، آئینی حقوق کی پامالی اور وفاقی طرزِ حکومت پر نظرثانی جیسے معاملات پر قوم پرست جماعتوں کی تشویش بڑھ رہی ہے۔ذرائع کے مطابق اجلاس میں پارلیمانی و سیاسی مستقبل، آئندہ عام انتخابات کے حوالے سے ممکنہ سیٹ ایڈجسٹمنٹ، بلوچستان و پشتون بیلٹ میں مشترکہ بیانیے کی تشکیل اور ایک نئے سیاسی اتحاد یا گرینڈ اپوزیشن الائنس کے قیام پر مشاورت کی جائے گی۔سیاسی مبصرین اس اجلاس کو ایک بڑی پیش رفت قرار دے رہے ہیں جو نہ صرف بلوچستان بلکہ قومی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اگر مذکورہ جماعتیں کسی اتحاد پر متفق ہو جاتی ہیں تو یہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کی سیاست میں ایک نئے سیاسی بلاک کے طور پر ابھر سکتی ہیں۔بی این پی ذرائع کے مطابق سردار اختر مینگل اس حوالے سے دیگر جماعتوں سے بھی رابطے بڑھا رہے ہیں تاکہ قوم پرست، جمہوری اور وفاقی قوتوں کو ایک پلیٹ فارم پر لایا جا سکے۔ اجلاس کے فیصلے اور مزید پیش رفت جلد سامنے آنے کی توقع ہے۔
سردار اختر مینگل کی زیر صدارت آج کوئٹہ میں اہم اجلاس، قوم پرست جماعتوں کے نئے اتحاد پر غور

ٹیگز:
اختر مینگل
