ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی عدالتی تاریخ میں بڑا واقعہ سامنے آ گیا، سابق چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کو قتل کے ایک مقدمے میں گرفتار کر لیا گیا۔سابق اعلیٰ عدالتی عہدے دار کی گرفتاری کے باعث بنگلہ دیش کے قانونی اور سیاسی حلقوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔بنگلہ دیشی پولیس کے مطابق سابق چیف جسٹس اے بی ایم خیرالحق کو ڈھاکا کے علاقے دھان منڈی میں ان کے گھر سے گرفتار کیا گیا، اے بی ایم خیرالحق کو بغاوت اور دھوکا دہی سمیت 3 مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔گرفتاری کے فوری بعد انہیں میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے انہیں جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم دے دیا۔یہ تمام تر کارروائی ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کی ڈیٹیکٹو برانچ (ڈی بی) نے کی، جس کے بعد انہیں تفتیش کے لیے منٹو روڈ پر واقع ڈی بی ہیڈکوارٹرز منتقل کر دیا گیا۔ ڈیٹیکٹو برانچ کے جوائنٹ کمشنر محمد ناصر الاسلام نے ان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے اور بتایا گیا ہے کہ ان کے خلاف متعدد مقدمات درج ہیں۔اے بی ایم خیرالحق 2010 میں بنگلہ دیش کے 19ویں چیف جسٹس مقرر ہوئے تھے لیکن اگلے ہی سال 67 برس کی لازمی ریٹائرمنٹ عمر کو پہنچنے پر عہدے سے سبکدوش ہو گئے۔اپنی عدالتی مدت کے دوران انہوں نے کئی اہم اور تاریخی فیصلے سنائے، ان میں نگران حکومت کے نظام کو ختم کرنے، شیخ مجیب الرحمان کے قتل کیس، آئین کی پانچویں ترمیم اور دارالحکومت ڈھاکہ کے ارد گرد دریاؤں کے تحفظ سے متعلق مقدمات شامل تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں 2013 میں لاء کمیشن کا چیئرمین بنایا گیا اور وہ کئی بار اس عہدے پر دوبارہ تعینات بھی ہوئے، تاہم گزشتہ سال جب عوامی لیگ حکومت کا خاتمہ ہوا تو انہوں نے 13 اگست کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔
شیخ مجیب قتل کیس کا فیصلہ سنانےوالے سابق چیف جسٹس گرفتار

