کوئٹہ(یو این اے )ایرانی پٹرول پر پابندی کے باعث صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں سبزیوں اور اشیائے خورد و نوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ بلوچستان کے دور دراز اضلاع سے کوئٹہ لائی جانے والی سبزیاں اور کھانے پینے کی اشیا کی ترسیل میں مشکلات اور اخراجات بڑھنے سے قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں۔تفصیلات کے مطابق خاران، پنجگور، تربت، گوادر، نوشکی، واشک، آواران، قلات، لورالائی، ژوب، چاغی، پشین، دالبندین، قلعہ سیف اللہ، قلعہ عبداللہ اور دیگر علاقوں سے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں سبزیاں، پھل اور اشیائے خورد و نوش لے کر کوئٹہ پہنچتی ہیں۔ ان علاقوں میں اکثر گاڑیوں میں ایرانی پٹرول استعمال کیا جاتا تھا کیونکہ ایرانی پٹرول پاکستانی پٹرول کی نسبت بہت سستا تھا۔ایرانی پٹرول پر حالیہ سخت پابندی اور اس کی بندش کے بعد ٹرانسپورٹ لاگت میں دوگنا اضافہ ہو گیا ہے، جس کا براہ راست اثر اشیا کی قیمتوں پر پڑا ہے۔شہریوں اور دکانداروں کے مطابق ٹماٹر، آلو، پیاز، لہسن، ادرک، پالک، شلجم، بند گوبھی، ہری مرچ، دھنیا، کریلا، بھنڈی، توری، بینگن، گاجر، کدو اور دیگر سبزیوں کی قیمتوں میں 30 سے 50 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔ اسی طرح دودھ، دہی، چینی، آٹا، دالیں اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے۔تاجر برادری نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ایرانی پٹرول کی دستیابی یا متبادل رعایتی ٹرانسپورٹ پالیسی دی جائے تاکہ دور دراز علاقوں سے سامان کی ترسیل ممکن ہو اور عوام کو مہنگائی کے عذاب سے کچھ ریلیف ملے۔شہریوں کا کہنا ہے کہ ایک طرف گرمی، دوسری جانب لوڈشیڈنگ، اور اب مہنگائی نے زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ حکومت فوری مداخلت کرے ورنہ احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔
ایرانی پٹرول پر پابندی، کوئٹہ میں سبزیوں و اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں

