میزئی ادہ(ڈیلی گرین گوادر)میزئی اڈہ کے مقام پر پیش آنے والے ٹارگٹڈ فائرنگ کے افسوسناک واقعے میں نوجوان محمد سعید جان بحق ہو گئے، واقعے کے فورا بعد شہید کی میت کو کوئٹہ منتقل کیا گیا جہاں سول اسپتال میں پوسٹ مارٹم کیا گیا،واقعہ کی خبر جنگل میں آگ کی طرح پھیل گئی، جس کے بعد شہید کے ورثا اور اہلِ علاقہ نے شدید احتجاج کرتے ہوئے میت کے ہمراہ کوئٹہ چمن قومی شاہراہ کو میزئی اڈہ کے مقام پر ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا۔ مظاہرین نے قاتلوں کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا،شدید گرمی کے باوجود احتجاجی دھرنے میں، بزرگ اور نوجوان بڑی تعداد میں شریک رہے، جس کے باعث شاہراہ پر گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئیں اور مسافروں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، اس موقع پر مریض،خواتین اور افغانستان جانے والے کڈوال کو مکمل چھوٹ دی گئی،بعد ازاں اسسٹنٹ کمشنر قلعہ عبداللہ افتخار ظہیر، لیویز اور ضلعی انتظامیہ کے دیگر افسران موقع پر پہنچے اور شہید کے لواحقین سے مذاکرات کیے۔ انتظامیہ کی جانب سے مکمل قانونی کارروائی، قاتلوں کی گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کی یقین دہانی پر لواحقین نے احتجاج کو ختم کرنے اور قومی شاہراہ کھولنے کا اعلان کیا احتجاج کے خاتمے کے بعد کوئٹہ چمن شاہراہ کو دوبارہ ہر قسم کی ٹریفک کے لیے کھول دیا گیا، جس سے معمولاتِ زندگی بحال ہوئے اور مسافروں نے سکھ کا سانس لیا، جس کے بعد عصر 6 بجے محمد سعید کی نماز جنازہ آبائی گاوں کلی ملک حیدرمسیزئی میں ادا کی گئی، جس میں قبائلی عمائدین، مقامی رہنما اور شہریوں کی بڑی تعداد شرکت کی۔
میزئی اڈہ،فائرنگ سے نوجوان جاں بحق، ورثا کا احتجاج، کوئٹہ چمن شاہراہ کئی گھنٹے بند

ٹیگز:
میزئی اڈہ
