کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)وائس چیئرمین بلوچستان بارکونسل راحب بلیدی نے کہاہے کہ بلوچستان کے وکلا 26ویں آئینی ترمیم کیخلاف تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں کیونکہ میں آئین و قانون کی بالادستی کی راہ میں یہ ترمیم رکاوٹ ہے اس سے جمہوریت کی بجائے ملوکیت کو فروغ ملتا ہے۔ یہ بات انھوں نے دیگر وکلاء کے ہمراہ کوئٹہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہی۔ راحب بلیدی کا کہنا تھاکہ سندھ کے وکلاء اپنے حقوق کیلئے احتجاج کررہے سندھ کے وکلاء نے کینالز کے فیصلے کو واپس لینے کیلئے 72 گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا ہمارے احتجاج کا مقصد سندھ کے وکلاء کیساتھ اظہار یکجہتی کرنا ہے انہوں نے کہاکہ جلیلہ حیدر ایڈووکیٹ کیخلاف ایف آئی آر کے اندراج کی مذمت کرتے ہیں کیونکہ ملک میں جمہوریت کے نام پر آمریت ہورہی ہے اسی لئے جلد 26 ویں ترمیم کیخلاف تحریک کا آغاز کرنے جارہے ہیں جس میں بلوچستان کے وکلاء ہر اول دستے کا کردار ادا کرینگے کیونکہ ہم ملک میں آئین و قانون کی بالادستی چاہتے ہیں۔
بلوچستان بار کونسل کی جانب سے کوئٹہ میں سندھ کینالز کیخلاف احتجاجی ریلی

کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان بار کونسل کی جانب سے کوئٹہ میں دریائے سندھ سے کینالزکے معاملے پر سندھ کے وکلا ء سے اظہاریکجہتی اور 26 ویں آئینی ترمیم کیخلاف اور ایڈووکیٹ جلیلہ حیدر پر قائم مقدمہ کیخلاف احتجا جی ریلی نکالی گئی وکلا نے کینالز کا معاملہ منسوخ کرنے، مقدمہ واپس لینے اور 26ویں آئینی ترمیم کو واپس لینے کا مطالبہ کر دیا۔ کوئٹہ میں ڈسٹرکٹ کورٹ سے وکلا ء کی جانب سے دریائے سندھ سے کینالزکے معاملے پرسندھ کے وکلاء سے اظہاریکجہتی اور26ویں آئینی ترمیم اور ایڈووکیٹ جلیلہ حید پر قائم مبینہ طور پر جعلی مقدمہ کیخلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی جو شارع اقبال سے ہوتی ہوئی پریس کلب تک پہنچ کر اختتام پذیر ہوگئی ریلی وائس چیئرمین بلوچستان بارکونسل راحب بلیدی،سینئروکلا رہنماء علی احمد کردکی قیادت میں نکالی گئی جس میں دیگر وکلا بھی شریک تھے وکلا نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر مطالبات سے متعلق نعر ے د ر ج تھے ریلی کیشرکاء کا کہنا تھاکہ سندھ سے کینالزکے معاملے پرسندھ کے وکلاء سے اظہا ریکجہتی او ر سماجی رہنماء جلیلہ حیدر کیخلاف ایف آئی اے کی جانب سے درج مقدمہ کی بھی مذمت کرتے ہیں اور حکومت نے جو 26ویں آئینی ترمیم بھونڈے انداز میں مسلط کی ہے اس کو نظر ثانی کے بعد واپس کیا جائے بصورت دیگر وکلاء ملک گیر تحریک چلائیں گئے بعد ازاں مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہوگئے۔

