کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان یونین آف جرنلسٹس (بی یو جے)نے پیکا ایکٹ کے خلاف احتجاج جاری رکھتے ہوئے کوئٹہ پریس کلب کے باہر علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز بھی قائم رکھا۔ کیمپ میں بی یو جے کی قیادت، صحافیوں کی بڑی تعداد، خواتین صحافیوں، سیاسی و مذہبی جماعتوں، وکلا، سول سوسائٹی، اور مزدور تنظیموں کے نمائندوں نے بھرپور شرکت کی بی یو جے کے رہنماں نے پیکا ایکٹ کو عوام کے بنیادی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ آزادی اظہار پر کسی بھی قدغن کو قبول نہیں کریں گے۔ بلوچستان بار کونسل کے وائس چیئرمین راحب خان بلیدی نے کہا کہ پیکا قانون 26ویں آئینی ترمیم کی طرح حکومت کی عوام دشمن پالیسیوں کا تسلسل ہے۔ بلوچستان ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کے نائب صدر جمیل بوستان نے حکومتی قانون سازی کو چند مخصوص حلقوں کے مفادات کا تحفظ قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کا اعلان کیا۔ پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن کے صدر علی بخش جمالی نے اسے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا اور صحافیوں کے احتجاج کی حمایت کا اعلان کیا۔ پاکستان یونائٹڈ ورکرز فیڈریشن کے صوبائی صدر پیر محمد کاکڑ نے پیکا ایکٹ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ قانون براہ راست عوامی حقوق پر حملہ ہے۔ لیبر فیڈریشن کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات عابد بٹ نے کہا کہ حکومت صحافیوں کی آواز دباکر عوام سے سچ چھپانے کی کوشش کر رہی ہے۔صحافیوں اور شرکا نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ آزادی اظہار رائے پر کسی بھی قسم کی پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے، بصورت دیگر ملک گیر احتجاج کیا جائے گا۔
پیکا ایکٹ کے خلاف بے یو جے کا علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ دوسرے روز بھی جاری

ٹیگز:
پیکا ایکٹ
