کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) کے ممبران نے، کوئٹہ شہر کے نمائندوں کے ساتھ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا دورہ کیا دورے میں صوبائی وزراء علی مدد جتک، بخت محمد کاکڑ، لیاقت علی لہڑی، ولی محمد نورز ئی و اراکین پی اے سی میر زابد علی ریکی، رحمت صالح بلوچ، فضل قادر مندوخیل، کمشنر کوئٹہ، کوئٹہ پراجیکٹ کے ڈائریکٹر، پی اینڈ ڈی و ایریگیشن کے نمائندے اور و پی اے سی کے افیسران شامل تھے۔ دورے کے دوران، کمیٹی کے ارکین نے شہر کے بنیادی ڈھانچے کے بارے میں خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے صوبے کی بڑی آبادی کو سہارا دینے کے لیے جدوجہد کرتے ہوئے کوئٹہ میں کام کی سست رفتار پر مایوسی کا اظہار کیا۔چیئرمین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی اصغر علی ترین نے نئی تعمیرشدہ سڑکوں کی حالت زار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کام کی سست روی کی وجہ سے عوام کئی ایک مسائل سے دو چار ہیں، چئیرمین نے کہا کہ شہر میں ایک روڈ بند ہونے کیوجہ سے پورے شہر کا ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوجاتا ہے یہ ہم قانون بنانے والے ممبران کی بہت بڑی کمزوری ہیسریاب روڈ سبزل روڈ جو حال ہی میں تعمیر کی گئی ہے، کو بھی اس کی سست پیش رفت پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔پروجیکٹ ڈائریکٹر اور کوئٹہ کے کمشنر نے کمیٹی کو پروجیکٹ کی صورتحال سے آگاہ کیا۔ تاہم پی اے سی نے کئی خامیوں کی نشاندہی کی، جن میں سریاب روڈ پر پیدل چلنے والوں کے لئے پلزکی عدم موجودگی اور پورے پراجیکٹ میں فلائی اوورز اور انڈر پاسسز نہیں، سڑک کی حفاظت کی ضروری خصوصیات جیسے کیٹ ہائیز، اسپائکس اور مختلف مقامات پر سڑک کے نشانات و اعلامات کی عدم موجودگی شامل ہے۔ کمیٹی نے نشاندہی کی کہ سڑکوں کے کنارے لگائے گئے درختوں کو پانی نہ ملنے کی وجہ سے درخت مرجھا گیے ہیں ان کی کوئی دیکھ بھال نہیں کمیٹی نے کڈنی سینٹر کے قریب پل کی فوری ضرورت پر روشنی ڈالی، کمیٹی ممبران نے کہا کہ اس کی عدم موجودگی کی وجہ سے لوگ ون وے جاتے ہیں اور اس کی وجہ سے حادثات بھی ہوتے ہیں ان خدشات کو دور کرنے کے لیے، چیئرمین اصغر علی ترین نے Accountability اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے منصوبے کا خصوصی آڈٹ کرانے کا بھی عندیہ دیا دورے کے دوران پی اے سی کے منصوبے کی پیش رفت کو تیز کرنے اور کوئٹہ کے شہریوں کے لیے بہتر بنیادی ڈھانچہ فراہم کرنے کے عزم کو ظاہر کرتا ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے ممبران نے کوئٹہ شہر کے نمائندوں کے ساتھ کوئٹہ ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا دورہ کیا

ٹیگز:
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی
