کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ جمہور کی جمہوریت دراصل اجتماعی دانش کا سیاسی مظہر ہے اور اجتماعی دانش سے کرنے والے فیصلے ہی ہر وقت اور ہر جگہ موثر اور معتبر ہوتے ہیں. اس ضمن میں یونیورسٹی کی سطح پر بھی متعدد نقطہ ہائے نظر کے نتیجے میں فوائد اور نقصانات کو ایک ساتھ تول کر، مشترکہ فیصلہ سازی زیادہ موثر اور پائیدار حل کی طرف لے جا سکتی ہے گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی آف پنجگور کے قیام کا سفر اگر ختم ہوا تو اسی یونیورسٹی کو اب انٹرنیشنل معیار اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھنے کا طویل سفر ابھی باقی ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے یونیورسٹی آف پنجگور کے پہلے سینٹ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا. اس موقع پر بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس عبداللہ بلوچ، پنجگور یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر عبدالمالک ترین، صوبائی سیکرٹری تعلیم حفیظ محمد طاہر، چیرمین بی آر اے نورالحق بلوچ، پرنسپل سیکرٹری ٹو گورنر بلوچستان ہاشم خان غلزئی،ہائپر ایجوکیشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ظہور احمد بازئی، فنانس ڈیپارٹمنٹ کے ایڈیشنل سیکرٹری ممتاز لانگو، جسٹس ریٹائرڈ عبدالحمید بلوچ اور سیشن جج (ر) ظریف بلوچ سمیت پنجگور یونیورسٹی کے سینٹ ممبران موجود تھے. اس موقع پر گورنر بلوچستان جعفرخان مندوخیل نے کہا کہ ہمیں تمام پبلک سیکٹر یونیورسٹیز کی سطح پر اکیڈمیہ اور انڈسٹری کے درمیان اپنی سماجی معاشی ضروریات کے مطابق اشتراک پیدا کرنے کے پہلو کو سنجیدگی سے لینا ہوگا تاکہ ہم حقیقی تعمیر و ترقی کی دوڑ میں شامل اور بیروزگار نوجوانوں کو روزگار فراہم کرنے میں کامیابی سے ہمکنار ہو سکیں۔ انہوں نے وائس چانسلر پر زور دیا کہ نئے ڈیپارٹمنٹس کھولتے وقت نیچرل سائنسز پر زیادہ توجہ مرکوز رکھیں.. گورنر بلوچستان نے کہا کہ یونیورسٹی آبادی کے مراکز یا عوامی نقل و حمل کے مراکز کے قریب واقع یونیورسٹی ہی زیر تعلیم طلباء و طالبات کیلئے آنا جانا آسانی پیدا کرتی ہے۔ سینٹ اجلاس کے شرکاء کی تجاویز اور سفارشات کے نتیجے میں کئی اہم فیصلے کئے گئے. آخر میں گورنر بلوچستان نے یونیورسٹی آف پنجگور کے پہلے سینٹ اجلاس کے شرکاء کو یادگاری شیلڈز بھی دیئے۔
جمہور کی جمہوریت دراصل اجتماعی دانش کا سیاسی مظہر ہے،گورنربلوچستان

ٹیگز:
گورنربلوچستان
