کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) پاکستان بار کونسل کے ممبر منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے خانوزئی اور قلعہ سیف اللہ میں بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ خانوزئی جیسے علاقے میں دہشتگردی کاواقعہ سوالیہ نشان ہے، قوم ومذہب کے نام پر سیاست کرنے والے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے لیکن جہاں مفاد آتی وہاں پھر وہ قاتل یا عسکریت پسند کے ساتھ بھی اتحاد کرینگے جو سوالیہ نشان ہے،سیاسی جماعتیں،عدلیہ اور حکومت ٹرائیکا ہے جو صرف اپنے مفادات کاتحفظ چاہتے ہیں لیکن وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے اپنے جاری کردہ بیان میں کیا۔ منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ نے خانوزئی اور قلعہ سیف اللہ میں ہونے والے بم دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ بم دھماکے ریاست کی نااہلی وناکامی ہے،ایسے واقعات ایک سازش ہے تاکہ لوگوں میں خوف وہراس پیدا ہوں اور ووٹ ڈالنے کی شرح کم ہوں اور پری پول ریگنگ کا سلسلہ جاری رکھاجائے،انہوں نے کہاکہ یہ حربے جمہوریت کو ناکام بنانے کی کوشش ہے دیگر حصوں میں عسکریت وانتہاپسندی کے حربے سمجھ سکتے ہیں لیکن خانوزئی جیسے علاقے میں جہاں عسکریت پسندی ودہشتگردی کا یہ واقعہ جہاں ایک ہی گھر کے 4افراد،باپ بیٹا،باپ سسر جان کی بازی ہار گئے ہیں یہ انتہائی ظلم اور بربریت ہے الیکشن نہ کرانے یا پری پول ریگنگ کیلئے ایسے حربے استعمال کئے جاتے ہیں تو یہ ملک کی تباہی کے اسباب ہے اور اس میں ملک کی سیاسی وجمہوری جماعتوں کا کردار بھی منفی ہے اپنے مفادات کیلئے قوم ومذہب کے نام پر سیاست کرنے والے ایک دوسرے کو برداشت نہیں کررہے لیکن جہاں مفاد آتی وہاں پھر وہ قاتل یا عسکریت پسند کے ساتھ بھی اتحاد کرینگے جو سوالیہ نشان ہے،سیاسی جماعتیں،عدلیہ اور حکومت ٹرائیکا ہے جو صرف اپنے مفادات کاتحفظ چاہتے ہیں لیکن وہ عوام کے مفاد کا نہیں سوچتے ہیں۔
خانوزئی جیسے علاقے میں دہشتگردی کاواقعہ سوالیہ نشان ہے،منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ

ٹیگز:
منیراحمدکاکڑ ایڈووکیٹ
