کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) جنرل جماعت اسلامی بلوچستان وامیدوار این اے 264کوئٹہ،پی بی 43کوئٹہ زاہداختر بلوچ نے کہاکہ کوئٹہ میں کرفیو کا سماں بناکر عوام کو پرامن احتجاج سے رکھوانا دانشمندی سے نہیں۔ زبان بندی،طاقت،نیٹ ورک بندش،میڈیا کوریج پرپابندی حکومتی ہتھکنڈے ہیں جماعت اسلامی مظلوموں کی آوازبن کر ظلم وجبر کے خلاف بھر پورآوازاٹھارہی ہے۔سب کوباربار آزمانے کے بعدترقی وخوشحالی اورامن کا واحدراستہ جماعت اسلامی رہ گئی ہے۔بلوچستان کو ترقی وخوشحالی جماعت اسلامی دے سکتی ہے عوام الناس 8فروری جماعت اسلامی کوووٹ دیکر بلوچستان کے حقوق کے حصول،بے روزگاری،بدعنوانی اوربدامنی ختم کرنے کا راستہ ہموارکریں بلوچستان کو دیانت دار قیادت مل جائے تو مسائل حل ہوں گے بدقسمتی سے آج بلوچستان آتش فشابن گیا ہے ہر طرف نفرت،تعصب،بدامنی اورمقتدرقوتوں اورحکمرانوں کی بدعنوانی عروج پر ہے الیکشن میں دعوے اوروعدے کیے جاتے ہیں عملی کام احتساب اورکارکردگی کوئی نہیں بتارہا۔جماعت اسلامی کارکردگی،کردار،عملی جدوجہد اور عوامی انقلابی منشور کی بنیاد پر الیکشن میں حصہ لے رہی ہے۔بلوچ یکجہتی کونسل کے ماؤں بہنوں بیٹیوں کو پہلے اسلام آباد میں بے عزت کیا اب کوئٹہ میں آوازبندی کی جارہی ہے۔پرامن،جمہوری احتجاج سب کا حق ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے انتخابی کنونشن،اجلاس،کارنرمیٹنگزسے خطاب اور وفودسے ملاقات کے دوران گفتگومیں کیا انہوں نے کہاکہ عوام الناس اگر مسائل کا حل،امن ترقی،خوشحالی اورامن چاہتے ہیں توجماعت اسلامی کا ساتھ دیں۔جماعت اسلامی کی کامیابی بلوچستان کے مظلوم وباشعورعوام کی کامیابی ہے۔3،4مہینوں سے چمن میں مقامی افرادکاجائز دھرناجاری مگر سننے والاکوئی نہیں۔اسلام آبادمیں مائیں بہنیں اپنے جگر گوشوں کیلئے احتجاج پرتھی مگر پوچھنے والا کوئی نہیں ہمیں جمہوری حقوق سے بھی محروم کیاجارہاہے۔ عوام الناس الیکشن میں آزمائے ہوئے ناکام نااہل لوگوں کو مسترد کرکے جماعت اسلامی کے پڑھے لکھے اہل اور ایماندار لوگوں کا ساتھ دیں۔ بلوچستان کے وسائل بلوچستان پرخرچ ہوگی بلوچستان کے عوام کو حقوق ملیگی تو مسائل حل ہوں گے۔ ساحل،طویل بارڈرز اورخزانوں ومعدنی وسائل،زراعت سے مالامال بلوچستان کے عوام غربت وبے روزگاری کا شکار مسائل وپریشانیوں سے پریشان ہیں جماعت اسلامی نے بلوچستان بھر میں اہل پڑھے لکھے امیدواروں کو ٹکٹ دیکر بلوچستان کے عوام کو دیانت دار قیادت کامیاب کرنے کا موقع دیا ہے۔8فروری موروثی پارٹیوں،بڑے بڑے بے عمل دعوے کرنے اور کئی دہائیوں سے بار بار حکومتوں میں ہونے والے قیادت کو مسترد کرنے کا دن ہے۔بلوچستان کے عوام اسلام وقومیت کے بجائے کردار،عمل،جدوجہد اورتقویٰ کی بنیاد پر مسائل کو حل کرنے کیلئے ووٹ جماعت اسلامی کے امیدواروں کے حق میں استعمال کریں۔
آج بلوچستان آتش فشابن گیا ہے ہر طرف نفرت،تعصب،بدامنی اورحکمرانوں کی بدعنوانی عروج پر ہے،زاہد اختر بلوچ

ٹیگز:
زاہد اختر بلوچ
