کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر نے کہا ہے کہ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اسکی صنعتوں کا بڑا حصہ بھی کسی نہ کسی صورت زراعت سے وابستہ ہے پاکستان کی زرعی پیداواری اہداف کے حصول کیلئے ملک میں مطلوبہ یوریا کھاد تیار کی جا رہی ہے کھاد بنانے والی فیکٹریوں کو قیمت خرید سے انتہائی ارزاں نرخوں پر گیس فراہم کی جا رہی ہے اسکے باوجود سستی کھاد تیار کر کے کسانوں کو پہنچانے کی بجائے اسمگل کرکے ملکی خزانے کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ کھاد کی اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان میں سستی کھاد کسان کو دستیاب نہیں ایک طرف اس اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے تو دوسری طرف ملک میں عدم دستیابی کی وجہ سے پاکستان کو مہنگی کھاد درآمد کرنی پڑ رہی ہے یوں جس وقت ملک عزیز ایک ایک ڈالر کے لئے عالمی مالیاتی اداروں کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہے اسی وقت بدعنوانی، منافع خوری اور بد انتظامی کی وجہ سے بلا ضرورت کھاد درآمد کی جارہی ہے جس وجہ سے ملک کو اربوں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ جب تک اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے معمور ادارے قومی ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اور مستعدی سے اسمگلنگ روکنے میں کامیاب نہیں ہوتے اس وقت تک ملکی خسارے پر قابو پانا ممکن نہیں ہو سکتا ملک کی تیزی سے گرتی ہوئی معیشت کو سنبھالا دینے کے لئے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے چند ماہ قبل اسمگلنگ کی روک تھام کے حوالے سے سنجیدہ اقدامات اٹھائے تھے لیکن اسمگلنگ مافیاز کسی نہ کسی طرح ناجائز منافع کمانے اور ملک کو نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ بجائے اس کے کہ حکومت بدانتظامی اور بد عنوانی پر قابو پائے حکومت نے آذربائیجان سے دو لاکھ ٹن کھاد درآمد کرنے کا فیصلہ کر لیا آذربایجان کے علاوہ متحدہ عرب امارات، قطر اور روس سے بھی کھاد درآمد کی جارہی ہے پاکستان ان ممالک سے کھاد درآمد کر رہا ہے جو زراعت کے شعبے میں پاکستان سے کہیں پیچھے تھے یہ اپروچ اور رویہ انتہائی افسوسناک ہے عالمی سطح پر بھی پاکستان کا تصور بری طرح سے متاثر ہونے لگا ہے آذرباییجان سے درآمد ہونے والی فی ٹن کھاد 187 امریکی ڈالر سے بھی زیادہ قیمت پر حاصل کی جا رہی ہے جوکہ پاکستانی مارکیٹ ریٹ کے اعتبار سے بہت زیادہ ہے دسمبر میں ایک لاکھ ٹن یوریا کھاد درآمد کی کا چکی اور اب آئندہ چند دنوں میں ایک لاکھ ٹن منگوائی جائے گی۔
اسمگلنگ کی وجہ سے پاکستان کو اربوں روپے کا نقصان پہنچایا جا رہا ہے، سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
