کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) عدالت عالیہ بلوچستان کے ججز جسٹس محمد کامران خان ملاخیل اور جسٹس اقبال احمد کاسی پر مشتمل بینچ نے صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں غیر قانونی تجاوزات کے خاتمیاور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے دائر آئینی درخواست کی سماعت کی۔ معزز بینچ نے کراچی بس ٹرمینل کو 31 دسمبر سے پہلے شہر سے باہر ہزار گنجی منتقل کرنے کی ہدایت کی۔ کمشنر کوئٹہ ڈویژن ڈپٹی کمشنر کوئٹہ سیکریٹری آر ٹی اے ایس پی ٹریفک کو اس سلسلے میں اقدامات اٹھانے کے احکامات جاری۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں جلسوں کی وجہ سے ٹریفک کی روانی متاثر رہتی ہے جس کیوجہ سے سکول اور کالج جانے والے طلباء و طالبات سمیت بزرگ شہریوں خواتین اور مریضوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے عدالت نے کمشنر کوئٹہ ڈویژن ڈپٹی کمشنر کوئٹہ کو ہدایت دی کہ جلسے جلوسوں کیلیے دو سے تین مقامات مختص کیے جائیں اسکے علاؤہ کسی بھی جگہ جلسہ کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لیاجائے۔ معزز بینچ نے سڑکوں پر ٹریفک کی روانی کو متاثر کرنے والے تمام عوامل کے فوری خاتمے اور غیر قانونی تجاوزات کے خلاف کریک ڈاؤن کو مزید سخت کرنیکا حکم دیا۔ معزز بینچ نے تجاوزات کیخلاف کارروائی کے عمل کو جاری رکھنے کی بھی ہدایات دیں۔ درخواست پر اگلی سماعت 16 نومبر کو ہوگی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ سریاب اور قمبرانی روڈ کے لوکل بسوں کا سٹاپ عارضی طور پر ریلوے اسٹیشن کی بجائے زرغون روڈ پل واقع پرانا آکٹوری گودام منتقل کردیا گیا ہے۔تاہم خواتین اور بزرگ شہریوں کو لانے کیلیے ایک وقت میں ایک بس سٹیشن تک جایا کرے گی۔ علاؤہ ازیں کوئلہ پاٹک پر بس سٹاپ کی تعمیر کیلیے وفاقی وزارت دفاع کو خط لکھا گیا ہے جواب ملتے ہی معزز عدالت کو مطلع کیا جائیگا۔ شہر سے گوداموں کو باہر منتقل کرنے کیلیے QDA کو ایک مہینے کی مہلت دی گئی ہے کہ وہ گودام مالکان کو فوری طور پر شہر سے باہر گوداموں کی الاٹمنٹ کا عمل منتقل کرلے۔ عدالت کو بتایا گیا کہ ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کیلیے غیر قانونی رکشوں کے خلاف کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں اب تک سینکڑوں کی تعداد میں رکشے تحویل میں لئے گئے ہیں۔
عدالت عالیہ بلوچستان کا کوئٹہ میں غیر قانونی تجاوزات کے خاتمہ اور ٹریفک کی روانی کو برقرار رکھنے کے حوالے سے دائر درخواست کی سماعت

ٹیگز:
عدالت عالیہ
