چمن(ڈیلی گرین گوادر)چمن ایک انٹرنیشنل بارڈر ہے ہر خارجی ملک میں پاسپورٹ پر ہی قدم رکھیں گے دھرنا کمیٹی کے جو جائز مطالبات ہے اس کو ہم احکام بالا سے زیر بحث لائیں گے بارڈر سے متصل کلی گاوں کیلئے کوئی مکینزم بنائیں گے چمن شہریوں کا روزگار ریاست کی ذمہ داری ہے نگران وزیر اطلاعات جان اچکزئی نے چمن کا ایک روزہ دورہ کیا جہاں ڈپٹی کمشنر آفس میں بارڈر شاہراہ پر جاری دھرنا کمیٹی سے مذاکرات کی کمیٹی میں شامل آل پارٹیز تاجر اتحاد نے اپنے تحفظات کے حق میں مطالبات پیش کئے جس میں پاسپورٹ اور چھوٹے تاجروں کے روزگار پر بحث مباحثہ ہوا جس پر جان اچکزئی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی کا روزگار نہیں چھین لیں گے چمن شہریوں کا روزگار ریاست کی ذمہ داری ہے ہم ہر صورت انہیں روزگار دیں گے پاکستان میں ایک لاکھ 13 ہزار بغیر دستاویزات کے تارکین وطن موجود ہے جس میں دیگر ممالک کے مہاجر بھی شامل ہیں انہیں ملک بدر کئے جائیں گے اور جس کے پاس لیگل دستاویزات موجود ہیں انہیں ہم زبردستی نہیں نکالیں گے چمن بارڈر پاکستان کیلئے اس لئے ایک چیلنج ہے کہ رواں سال کے اندر 20 خودکش حملے ہوئے ہیں جن میں 14 حملہ آور کا تعلق افغانستان سے ہیں اس بارڈر کو ہر صورت ریگولیٹ ہونا ہے یہ ایک انٹرنیشنل بارڈر ہے وہ خارجی اس ملک میں قدم رکھیں گے جن کا قانونی پاسپورٹ ہوگا جبکہ سرحد سے متصل کلی گاوں کیلئے آنے جانے کی کوئی مخصوص مکینزم بنایا جائیگا۔ تاہم یہ طے ہیں کہ ایپکس کمیٹی کے فیصلوں پر فی الفور عمل درآمد کو یقینی بنائیں گے اور دستاویزات رکھنے والوں کو اگر کوئی شکایت ہو یا انتظامیہ تنگ کریں تو اس کیلئے شکایات سیل قائم کر دیا ہے جہاں وہ اپنے شکایات درج کر سکتے ہیں۔
ہم کسی کا روزگار نہیں چھین لیں گے چمن شہریوں کا روزگار ریاست کی ذمہ داری ہے،جان اچکزئی

ٹیگز:
جان اچکزئی
