کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر امان اللہ کنرانی نے اپنے ایک بیان میں وزیراعظم شہباز شریف و وفاقی کابینہ و حکومت پاکستان کا سپریم کورٹ پاکستان کے مائع ناز سینئر جج جناب جسٹس قاضی فائز عیسی صاحب کے خلاف 29.5.2019 کو دائر ناجائز و بدنیتی پر مبنی ریفرینس کا سرے سے واپس لینے اور اس پر ماضی میں آئین و قانون و قواعد سے ماوراء مفروضوں پر مبنی Curative Petition یعنی رحم کی اپیل کے طرز کی ایک بے معنی و خودساختہ درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس کی پیروی نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو خوش آئیند اور قابل تحسین ہے آج سپریم کورٹ کے ایک جج جناب جسٹس امین الدین خان نے اپنے سمیت کل جناب جسٹس قاضی فائز عیسی کی سربراہی میں بنچ کے فیصلے کی پیروی میں از خود کارواء کے کیس میں بنچ کا حصہ بننے سے معذرت کرکے اعلی اصول کا ثبوت دیا ہے یوں چیف جسٹس سمیت دیگر جج صاحبان بھی اپنی ہی عدالت کے ایک معزز بنچ کے فیصلہ کا احترام کرتے ھوئے اس بنچ کا حصہ نہ بنیں اس کے باوجود بھی چیف جسٹس صاحب اپنی انا پر قائم رہتے ہیں تو عدلیہ کو تفریق سے بچانے عوام کے اعتماد کو بحال کرنے کے لئے سینئر ترین جج PLD 1998 SC 161 کی روشنی میں بنچ بناکر چیف جسٹس کے کنڈکٹ پر کء حوالوں سے نوٹس لے سکتے ہیں یا جوڈیشل کونسل کے اندر معاملہ کو لے جایا جاسکتا ہے ایسی صورت میں حکومت کو 1970 کے صدارتی آرڈر 27 کے آرٹیکل 2 کے تحت چیف جسٹس جناب عْمر عطا بندیال کو جبری رخصت کے قانون کے تحت رخصت پر بھیج کر سپریم جوڈیشل کونسل کی کارواء کے لئے سینئر ترین جج کو نامزد کرنا ھوگا تب ملک کے اندر جاری عدالتی و سیاسی خلفشار کا خاتمہ ھوسکے گا
وزیراعظم کا جسٹس قاضی فائزکے خلاف دائر ناجائز و بدنیتی پر مبنی ریفرنس واپس لینے اور کومسترد کرتے ہوئے پیروی نہ کرنے کا فیصلہ خوش آئند ہے ، امان کنرانی

ٹیگز:
امان کنرانی
