اوستہ محمد(ڈیلی گرین گوادر)قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی کا بنیادی مرکز صحت ہسپتال(بی ایچ یو) کوٹ میرنور محمد خان جمالی میں پاک فوج کی جانب سے لگائے گئے فری میڈیکل کیمپ کا دورہ کیا۔اس موقع پر قائم مقام گورنر بلوچستان میر جان محمد خان جمالی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افواج پاکستان ملک کا ایک بہت بڑا ادارہ ہے۔ملک کو دشمنوں سے بچانے کے ساتھ ساتھ اندرون پاکستان میں بھی ان کی نمایاں خدمات ہیں۔ملک میں سیلاب،بارشیں اور زلزلہ جیسی قدرتی آفات سے نمٹنے کیلئے پاک فوج سب سے پہلے پہنچتی ہے۔بلوچستان میں 12 کور کی جانب سے مسلسل دو ماہ سے سیلاب متاثرین کی بحالی کیلئے دن رات کام کر رہی ہے۔ہم پاک فوج کی ان خدمات کو سراہتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے 32 اضلاع سیلاب اور بارشوں سے متاثر ہوئے ہیں۔بلوچستان عوام کی نظریں وفاقی حکومت اور عالمی اداروں پر ہے۔بلوچستان کے پاس وسائل محدود ہیں۔جو کہ اتنی تباہی کی بحالی نا ممکن ہے۔میرا اپنا حلقہ انتخاب ضلع اوستہ محمد مکمل طور پر سیلاب کی نظر ہو گیا ہے۔جن کی بحالی کیلئے پاک فوج سے ملکر ہر ممکن اقدامات کر رہے ہیں۔آر بی ڈی او اور حیر دین ڈرینیج کی توسیع کیلئے کوشاں ہیں۔سیلاب سے بچنے کا واحد حل ڈرینیج نظام کو بہتر کرنا ہو گا۔میر جان محمد خان جمالی نے کہا کہ الحمداللہ اوستہ محمد ضلع ہونے کے بعد ڈپٹی کمشنر اوستہ محمد تعینات کر دیا گیا ہے۔جس سے ضلع اوستہ محمد کے سیلاب متاثرین کی بحالی ملے گی۔انہوں نے مذید کہا کہ پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کی برسی کے موقع پر ہم ان کی جانب سے پاکستان کی عوام کیلئے جو خدمات دی ہیں ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں اور اللہ پاک سے دعا کرتے ہیں عظیم سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدید کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام نصیب فرمائے۔آمین۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مسلسل تین سیلاب کے باعث ضلع اوستہ محمد سیلاب کی گزرگاہ میں تبدیل ہو چکا ہے جس کے باعث وفاقی حکومت کے ساتھ ملکر ہمارے نہری نظام کو بچانے کے ساتھ ساتھ سم۔کینال کیپشتوں کو مضبوط کر کے سیلابی گزر گاہ بنائی جائے گی تاکہ آئندہ سیلابی پانی سے نمٹنے کیلئے تیار رہیں۔انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے گڑنگ ریگولیٹر کے مقام پر بلوچستان کے زمینداروں کے ساتھ زیادتی کی جاتی ہے جس کے باعث ہماری لاکھوں ایکٹر زمین بنجر ہو جاتی ہے لیکن بلوچستان حکومت محکمہ ایریگیشن سے ملکر خانکی کے مقام پر ریگولیٹر قائم کیا جائے گا جس سے بلوچستان کے زمینداروں کو فائدہ ہو گا کیونکہ جب پانی کی شدید قلت ہوتی ہے تو حکومت سندھ بلوچستان کے حصے کا پانی بڑے پیمانے پر چوری کرتے ہیں جب بارشیں اور سیلاب کی صورتحال پیدا ہوتی ہے تو حکومت سندھ بڑے پیمانے پر سندھ کا سیلابی اور بارشی پانی کو گڑنگ ریگولیٹر کے مقام پر پانی چھوڑ کر بلوچستان کے ضلع اوستہ محمد کو زیر آب کرتے ہیں۔ان کی روک تھام کیلئے اقدامات کرے گی۔
بلوچستان کے عوام کی نظریں وفاقی حکومت اور عالمی اداروں پر ہے،میر جان محمد خان جمالی

ٹیگز:
میر جان محمد خان جمالی
