کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی مرکزی کال پر 3 نومبر 2007 کی ایمرجنسی،ملک میں میڈیا اداروں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں سمیت بلوچستان میں بیورو دفاتر کی بندش، تنخواہوں کی عدم ادائیگیوں اور تاخیر کے خلاف صوبائی دارلحکومت کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں یوم سیاہ منایا گیا اس موقع پر کوئٹہ اور اندرون بلوچستان پریس کلبز پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے جبکہ صحافیوں نے بازوؤں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر احتجاجی مظاہرے کئے صوبائی دارلحکومت کوئٹہ میں بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے زیر اہتمام کوئٹہ پریس کلب پر سیاہ جھنڈہ لہرایا گیا اور پریس کلب کے سامنے بھرپور احتجاجی دھرنا دیا گیا دھرنے میں صحافیوں سمیت وکلاء، سول سوسائٹی مزدور تنظیموں اور انسانی حقوق کمیشن کے نمائندگان بھی شریک ہوئے دھرنے سے بلوچستان یونین آف جرنلسٹس کے صدر منظور احمد رند، کوئٹہ پریس کلب کے صدر عرفان سعید، پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے سینئر نائب صدر نورالہی بگٹی سابق صدر پی ایف یو جے شہزادہ ذوالفقار, سینئر نائب صدر بی یو جے فرید اللہ خان، جنرل سیکرٹری بی یو جے شاہ حسین ترین، جنرل سیکرٹری کوئٹہ پریس کلب ایوب ترین، جنرل سیکرٹری کوئٹہ بار ایسوسی ایشن میرفہد مینگل ایڈووکیٹ، ایچ آر سی پی کے رہنماء شمس الملک مندوخیل، عبدالقیوم کاکڑ ایڈووکیٹ، سول سوسائٹی تنظیموں کے نمائندے میر بہرام لہڑی، بلوچستان لیبر فیڈریشن کے رہنماء عابد بٹ، ناشناس گروپ آف پبلشرز کے ڈاکٹر ناشناس لہڑی، بی یو جے کے سابق صدور رضاالرحمن، خلیل احمد، سلمان اشرف، عبدالخالق رند، چیئر مین دکی پریس کلب عبدالحکیم مجاہد، خواتین صحافیوں کی نمائندہ سعدیہ جہانگیر اورسیدہ نتاشا نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا اداروں سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی جبری برطرفیوں کا سلسلہ جاری ہے بلوچستان میں 10 کے قریب نیوز چینلز نے اپنے بیورو دفاتر بند کر دیئے ہیں جس کی وجہ سے نیوز چینلز اور اخبارات میں کام کرنے والے 150 کے قریب صحافی اور میڈیا ورکرز بے روزگار ہو گئے ہیں نہ صرف بلوچستان بلکہ ملک بھر میں صحافیوں کا معاشی قتل عام جاری ہے پیکا ایکٹ کی صورت میں ایک کالا قانون نافذ کیا گیا ہے جو صرف میڈیا کی آزادی پر پابندی لگانے کے لئے استعمال ہو رہا ہے مقررین کا کہنا تھا کہ صحافتی تنظیمیں مادر پدر آزاد اظہار رائے کے حق میں نہیں مگر جس انداز میں پیکا ایکٹ کے تحت صحافیوں کے خلاف مقدمات قائم کرکے انکو گرفتار اور ہراساں کیا جاتا ہے میڈیا کی زبان بندی کی گئی ہے یہ ناقابل برداشت اور کسی صورت قابل قبول نہیں مقررین کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے سیاسی جماعتوں نے میڈیا کی آزادی کے حوالے سے دہرا معیار اپنایا ہوا ہے موجودہ حکومت میں شامل مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی جو سابقہ ادوار میں خود کو میڈیا کی آزادی اور جمہوریت آئین اور انسانی حقوق کی علمبردار سیاسی جماعتیں کہتی تھیں مگر ان کے دور حکومت میں میڈیا پر جس طرح پابندیاں عائد ہیں اور کالے قوانین نافذ کئے گئے ہیں اس کی مثال ماضی کی کسی بھی حکومت میں نہیں ملتی مقررین نے کہا کہ آج یوم سیاہ سے پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس اور ان سے منسلک صحافتی تنظیموں نے ملک گیر احتجاجی تحریک کا آغاز کیا ہے یہ تحریک اب رکنے والی نہیں اور میڈیا کی آزادی کالے قوانین کے خاتمے صحافیوں کے حقوق کی بجا آوری بلوچستان میں بند کئے گئے بیورو دفاتر کی دوبارہ فعالیت اور ملک بھرمیں میڈیا اداروں سے جبری طور پر برطرف کئے گئے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی بحالی تک جاری رہے گی کوئٹہ کے علاوہ اندرون بلوچستان ڑوب، قلات، خضدار، دالبندین، دکی، ہرنائی، ڈیرہ مراد جمالی، رکھنی، سبی سمیت دیگر شہروں میں پریس کلبز پر سیاہ جھنڈے لہرائے گئے اور صحافیوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے گئے
کوئٹہ، صحافیوں کی جبری برطرفیوں اور بیورو دفاتر کی بندش کے خلاف بلوچستان بھر میں احتجاجی تحریک کا آغاز

