کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں سبی سے تعلق رکھنے والی ہندو برادری کی 14 سالہ بچی بندیہ کے مبینہ اغوا، مذہب کی جبری تبدیلی اور نکاح کا معاملہ زیر بحث آیا، جبکہ محکمہ کھیل میں بھرتیوں کے عمل پر بھی ارکان اسمبلی نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بچی کے معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے سندھ حکومت سے رابطہ کرکے رپورٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی یقین دہانی کرائی بلوچستان اسمبلی کا اجلاس پیر کو اسپیکر کیپٹن (ر)عبدالخالق اچکزئی کی صدارت میں 25 منٹ کی تاخیر سے شروع ہوا۔ اجلاس کے دوران گوادر میں میجر وجاہت وحید اور نصیرآباد میں پولیس اہلکاروں کی شہادت پر فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔اجلاس میں رکن اسمبلی اشوک کمار نے توجہ دلائی کہ تین روز قبل سبی کے علاقے سے ہندو برادری کی 14 سالہ بچی بندیہ کو مبینہ طور پر اغوا کرکے سندھ لے جایا گیا، جہاں اس کی مرضی کے خلاف نکاح کرائے جانے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قانون کے مطابق 14 سالہ بچی کی شادی اور مذہب کی تبدیلی کے معاملے کا جائزہ لیا جانا چاہیے۔ انہوں نے حکومت بلوچستان سے مطالبہ کیا کہ سندھ حکومت سے فوری رابطہ کرکے بچی کی بازیابی یقینی بنائی جائے۔پارلیمانی سیکرٹری برائے مذہبی امور سنجے کمار نے کہا کہ یاسر نامی شخص مبینہ طور پر نویں جماعت کی طالبہ بندیہ کو ورغلا کر سندھ لے گیا، جہاں اس کا مذہب تبدیل کرکے نکاح کرائے جانے کا الزام ہے۔ ان کے مطابق بچی کے اہل خانہ شدید پریشانی میں مبتلا ہیں اور ان کی والدہ کی حالت بھی تشویش ناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح اسما جتک کے معاملے پر آواز اٹھائی گئی، اسی طرح 14 سالہ بندیہ کی بازیابی کے لیے بھی بھرپور آواز اٹھائی جائے۔
بلوچستان اسمبلی،14سالہ ہندو بچی کے اغوا اور جبری نکاح کے معاملے پرارکان کااظہار تشویش، وزیر داخلہ نے رپورٹ طلب کر لی

ٹیگز:
بلوچستان اسمبلی
