اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)وزیراعظم شہباز شریف اور جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے درمیان ملاقات ختم ہوگئی، جس میں ملکی سیاسی صورتِ حال اور حکومت و اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی پر بات چیت کی گئی۔ ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمن وزیراعظم ہاؤس سے روانہ ہو گئے۔ذرائع کے مطابق مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے فی الحال ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی مانگ لی ہے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کی بحالی کے لیے سیاسی معاملات افہام و تفہیم کے ساتھ حل کرنے پر زور دیا۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں مولانا فضل الرحمان نے حکومت سے سیاسی تناؤ کم کرنے اور اپوزیشن کو دوبارہ مذاکرات کی دعوت دے کر بات چیت کا عمل آگے بڑھانے کی تجویز دی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب لانگ مارچ کے معاملے پر سیاسی قیادت کے درمیان مشاورت ہوئی۔ اس سے قبل وزیراعظم شہباز شریف نے مولانا فضل الرحمان سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا تھا اور انہیں عمرے کی ادائیگی پر مبارک باد دیتے ہوئے وزیراعظم ہاؤس آنے کی دعوت دی تھی، جسے جے یو آئی کے سربراہ نے قبول کر لیا تھا۔
ترجمان جے یو آئی نے بتایا تھا کہ مولانا فضل الرحمان کی وزیراعظم سے ملاقات ان کی دعوت پر ہوئی۔ترجمان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ہاؤس روانہ ہونے سے قبل مولانا فضل الرحمان نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کو بھی اعتماد میں لیا تھا۔ ملاقات میں جے یو آئی کے وفد میں سینیٹر مولانا عطاء الحق درویش، مولانا لطف الرحمان اور سینیٹر کامران مرتضیٰ شامل تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مولانا فضل الرحمان نے مذاکرات کی بحالی اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے لیے حکومت سے ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کی یقین دہانی بھی طلب کی ہے۔ تاہم، اس حوالے سے حکومت کی جانب سے باضابطہ یقین دہانی سامنے آنے کی تصدیق نہیں ہوئی۔

