کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے 8فروری کو شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران 200سے زائد دکانداروں اور ریڑھی والوں کو گرفتار کرنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ گرفتار افراد کو فوری طور رپ غیر مشروط طور پر رہا کیا جائے یہاں جاری ہونے والے ایک بیان میں مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے کہا ہے کہ مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے تحریک تحفظ آئین پاکستان کی اپیل پر 8فروری کو ملک بھر کی طرح کوئٹہ میں بھی شٹرڈاون اور پہیہ جام ہڑتال کی حمایت کا اعلان کیا تھا اورتاجروں نے رضاکارانہ طور پر اپنا کاروبار بند رکھا لیکن دوپہر کے بعد پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 200سے زائد دکانداروں اور ریڑھی والوں کو گرفتار کرلیا جس کی مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سخت الفاظ میں مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن اوررضاکارانہ ہڑتال کے دوران پولیس کاتاجروں اور ریڑھی والوں کوگرفتار کرنا سمجھ سے بالاتر ہے کسی بھی دکانداروں سے زبردستی دکانیں بند نہیں کرائیں بلکہ انہوں نے خود اپنا کاروبار بند رکھا۔انہوں نے کہا کہ مرکزی انجمن تاجران نے آٹھ فروری کو گرفتار ہونے والے دکانداروں اور ریڑھی والوں کی رہائی کے حوالے سے انتظامیہ سے رابطہ کیا انتظامیہ کبھی انہیں تھری ایم پی او کے تحت جیل بھیجنے اور کبھی ہنگامہ آرائی کے الزام میں گرفتار کرنے کا کہہ رہی ہے جو کسی بھی طرح درست اقدام ہے۔مرکزی انجمن تاجران بلوچستان نے وزیراعلیٰ بلوچستان،چیف سیکرٹری بلوچستان،ایڈیشنل ہوم سیکرٹری،آئی جی پولیس اوردیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا کہ 8فروری کو پولیس کی جانب سے بغیر کسی وجہ سے گرفتار کئے جانے والے ریڑھی والوں،دکانداروں کو فوری طور پر غیر مشروط رہا کرے بصورت دیگر مرکزی انجمن تاجران بلوچستان سخت احتجاج پر مجبور ہوگی جس کی تمام ترزمہ داری صوبائی حکومت،ضلعی انتظامیہ اور پولیس حکام پر عائد ہوگی۔
8فروری کو شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال کے دوران 200سے زائد دکانداروں اور ریڑھی والوں کو گرفتار کرنا قابل مذمت ہے،،مرکزی انجمن تاجران بلوچستان

ٹیگز:
انجمن تاجران
