کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)خلجی قو م کے معتبر ین نو اب سلما ن خلجی، نعیم خا ن خلجی، نو ر خا ن خلجی، زین العابدین خلجی،سردارشہباز خلجی نے بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالہ یوسف خلجی کی 3ایم پی او کے تحت گرفتاری کی مذمت کرتے ہوئے کہ اگر لالہ یوسف خلجی کو 72گھنٹے کے اندر رہا نہیں کیا گیاتو پورے بلوچستان میں سخت احتجاج پر مجبور ہونگے۔یہ بات انہوں نے پیر کو خلجی قبائل کے دیگر معتبرین کے ہمراہ کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہاکہ پاکستا ن پیپلز پارٹی کی حکومت میں پاکستان پیپلز پارٹی کے بزرگ رہنماء و بلوچستان امن جرگے کے سربراہ لالا یوسف خلجی کو 3 ایم پی او کے تحت گرفتا رکرکے جیل میں بند کیا گیا ہے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔انہوں نے کہا کہ سیاسی نظریے ایک طرف رکھ کر اپنی قوم کی حفاظت کرینگے لالا یوسف خلجی کی گرفتار ی پر پیپلز پارٹی کی خاموشی پر حیرت ہے پیپلز پارٹی کیلئے لالہ یوسف خلجی کی خدمات قابل تعریف ہیں۔ انہوں نے کہاکہ چشمہ اچوزئی میں دو برادر اقوام کے درمیان زمین کا تنازعہ چل آرہا ہے جس کیلئے باقاعدہ مذاکرات بھی جاری ہیں اور امید ہے کہ مشترکہ کاوشوں سے یہ مسئلہ جلد حل ہو جائے گا لیکن ضلعی انتظامیہ چشمہ اچوزئی کے معاملے پر لالہ یوسف خلجی پر دباؤ ڈالنا چاہتی ہے اورانہیں 3ایم پی او کے تحت گرفتار کرکے جیل میں بند کیا گیا ہے اور ان سے کسی کو ملاقات کی بھی اجازت نہیں دی جارہی ہے نو انسانی بنیادی حقوق کے منافی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ مسائل حل کرنے کی بجائے قبائلی دشمنیاں پیدا کرنے کی سازشیں کررہی ہے جس کی خلجی قبائل کسی بھی صورت اجازت نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ حکومت فوری طور پر لالہ یوسف خلجی کو غیر مشروط طور پر رہا کرے اگر 72گھنٹے میں انہیں رہا نہیں کیا گیا تو کوئٹہ سمیت بلوچستان میں سخت احتجاج کیا جائے گا جس کے دوران شٹرڈاؤن ہڑتال اورقومی شاہراہوں کو غیرمعینہ مدت کیلئے بند کریں گے۔
لالہ یوسف خلجی کو72گھنٹے میں رہا نہیں کیا گیا تو بلوچستان میں سخت احتجاج کیا جائے گا،نواب سلمان خلجی

ٹیگز:
نواب سلمان خلجی
