اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر)نگران وزیراعظم انوارالحق کاکڑ نے کہاہے کہ معاشرے میں تشدد کے استعمال سے متعلق کنفیوژن ہے اور معاشرے میں قبولیت کے عنصر کی وجہ سے ٹی ٹی پی،بی ایل اے،بی ایل ایف جیسی گروہ پیدا ہوتی ہے، بلوچستان میں آرمڈ انسرجنسی چل رہی ہے بالاچ بلوچ بیچارہ،معاملے کی ایف آئی آر درج ہوچکی قانون کے مطابق تمام تقاضے پورے کئے جائیں گے لیکن 20سال سے جو سوال جواب طلب ہیں انہیں بحث کا حصہ ہوناچاہے کہ مسلح اور غیر مسلح افراد کو ایک جیسے ٹریٹ کیاجاسکتاہے؟ بے گناہ لوگوں کو قتل کیاجارہاہے نیشنل پارٹی کے 600کارکنوں کو ختم کیا گیا اور پھر بڑی ڈٹائی کیساتھ ذمہ داری قبول کی گئی کیایہ لوگ امریکہ میں کسی مخبر کومارسکتے ہیں؟ یہ لوگ جائیں کرے توانہیں پھر تمام انسانی حقوق کے ساتھ جواب بھی مل جائیگا۔ان خیالات کااظہار انہوں نے نیشنل سیکورٹی ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ انوارالحق کاکڑ نے کہاکہ دنیا میں پائپ گیس کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے کوشش کی جارہی ہے کہ ڈیموسٹک استعمال میں ایل پی جی شروع کی جائیں قطر جیسے ممالک جن کے پاس گیس کے بڑے ذخائر ہیں وہاں پائپ والی گیس کی حوصلہ شکنی کی جارہی ہے،استعمال کیلئے مختلف فارمز استعمال کررہے ہیں،اسی ماڈل کے تحت ہم کوشش کررہے ہیں کہ ایل پی جی کو استعمال کیاجائے،گوادر کیلئے ایل پی جی گیس وآئل گیس کیلئے بات چیت کی جائیں اور ضرورت پورا ہوں،انہوں نے کہاکہ بالاچ بلوچ کے معاملے میں عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں تحقیقات ہوجائیگی انہوں نے کہاکہ میرا تعلق بلوچستان سے ہے کوشش ہے کہ مہمان نوازی کے تقاضوں کو پورا کروں اور کوئی ایسی بات نہ کروکہ کسی کی دل آزاری ہوں،سب جانتے ہیں کہ بلوچستان میں آرمڈ انسرجنسی چل رہی ہے،14لوگ گوادر کے روٹ پر زندہ جلے ہیں ڈی این اے کے ذریعے ان کی شناخت ہورہی ہے،انہوں نے بالاچ بلوچ کو بیچارہ قراردیتے ہوئے کہاکہ بالاچ کو بیچارہ ہی کہوں گا کیونکہ ان کے لواحقین ہیں لیکن 14لوگوں کا نام بھی شاید پتہ نہ ہوں،اسکے بعد کچھ مزدور تھے کسی تھانے میں تحفظ دی گئی تھی پھر انہیں تھانے میں پولیس والوں کے ساتھ شہید کیا گیا،باہوٹ روایتی طورپر بلوچوں کی ایک سب سے اہم روایت تھی قبائلی حوالے سے،باہوٹ جس کا قبیلے سے تعلق نہ تھا پھر قبیلہ میں آکر توانہیں تحفظ فراہم کیاجاتاتھا باہوٹ کیلئے قبائل 30،40سال تک لڑتے رہے،سب کے حقوق ہیں خاص طورپر اس کیس میں یہ طے کرناہوگا کہ آرمڈ سٹرگل تشدد کسی بھی حوالے سے بعض جائز تو بعض ناجائز وجوہات ہوتی ہیں البتہ وجوہات پر بحث کی جاسکتی ہیں لیکن کیا جدید اقوام کے ملک میں تشدد کو شیئر ہولڈنگ کے طورپر اجتماعی یا ذاتی طورپر ٹول ایکسرسائز کرسکتے ہیں؟ہمارے ہاں ایک کنفیوژن ہے کہ جس طرح ریاست تشدد کااستعمال کرسکتے ہیں اسی طرح ایک گروہ بھی کرسکتاہے،اسی لئے ٹی ٹی پی،بی ایل اے،بی ایل ایف پیدا ہوتے ہیں معاشرے میں قبولیت کے لیول ہوتاہے یہ جو قبولیت کے درجے ہیں پرائمری ہیں قانون کے مطابق جو بھی تقاضے ہیں وہ پورے ہونگے لیکن بڑا سوال گزشتہ 20سال سے جواب طلب ہیں،نسیم جنگیان کو کس نے مارا کیا اس کیلئے کوئی آیا،مولابخش دشتی سمیت سینکڑوں نام ہیں اس کیلئے کیوں کوئی نہیں اٹھتا،ڈاکٹرشفیع تو آئی ایس آئی کیلئے کام نہیں کرتا تھا کیا قصور تھا؟ میں نیشنل پارٹی سے نہیں ہوں 600سے سے زائد صرف نیشنل پارٹی کے الیمینیٹ (ختم)کیا گیا اور پھر ڈٹائی کے ساتھ ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں جائیں امریکہ میں کسی مخبر کو قتل کرکے دکھائیں تمام انسانی حقوق کے ساتھ پھر جواب بھی مل جائے گا تشدد بڑا چیلنج ہوتاہے اور ریاست اپنے طور پر اپنے عوام کے تحفظ کیلئے اقدامات کریگی،آئین میں پرامن لوگوں کے تحفظ کالکھاگیاہے جو لوگ آرمڈ ایکسرسائز کرتے ہیں یہ بحث ہونی چاہیے کہ کیا ان کے حقوق برابر ہونے چاہے اس کو بحث کے طورپر پارلیمنٹ ودیگر فورم پر لائیں۔
بالاچ بلوچ کے معاملے میں عدالت نے احکامات جاری کئے ہیں تحقیقات ہوجائیگی، انوارالحق کاکڑ

ٹیگز:
انوارالحق کاکڑ
