واشنگٹن (ڈیلی گرین گوادر) امریکی صدر جوبائیڈن اپنی ہٹ دھرمی برقرار رکھتے ہوئے ناجائز ریاست اسرائیل کی وکالت کرنے لگے۔ غزہ میں ہونے والے جانی اور مالی نقصان کا ذکر تک نہ کیا۔ ظالم کا ساتھ دینے پر ترک صدر نے امریکا کو آئینہ دکھا دیا تفصیل کے مطابق امریکی صدر جوبائیڈن نے پھر دہشتگرد صیہونی ریاست اسرائیل کے ساتھ کھڑے ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ جوبائیڈن نے غزہ پر اسرائیلی بربریت کو مکمل نظر انداز کرتے ہوئے الٹا حماس کو ہی تنقید کا نشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ حماس کےحملےمجرمانہ فعل ہیں۔ کانگریس کواسرائیلی امدادپرفوری کارروائی کی درخواست کریں گے۔ ادھرامریکی وزیرخارجہ انٹونی بلنکن کل اسرائیل روانہ ہوں گے۔
فلسطینیوں پر مظالم کے پہاڑ توڑنے والے اسرائیل کی حمایت پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے امریکی قیادت کو کھری کھری سنادیں۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بحری بیڑہ اسرائیل کیا کرنے آیا ہے؟ حالات مزید بگڑنے کے خدشے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکی بحری بیڑےکی آمدکشیدگی کوبڑھائے گی۔ یہ غزہ پرحملہ کرکےسنگین قتل عام شروع کرےگا۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنائی کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست پر حملہ کرنے والوں کے ہاتھ چومتے ہیں۔ حماس کا حملہ اسرائیلی فوج اور انٹیلی جنس کے لیے ناقابل تلافی شکست ہے۔ اسرائیل پر حماس کے حملے میں ایران ملوث نہیں ہے خیال رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی ہے۔ آپریشن “طوفان الاقصیٰ” کے پانچویں روز حماس جنگجوؤں کے حملوں میں مرنے والے اسرائیلیوں کی تعداد 12 سو تک جاپہنچی ہے۔ غزہ اور مغربی کنارے میں 900 سے زائد فلسطینی شہید ہوگئے ہیں۔
فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی پر حماس اور اسرائیلی فوج کے درمیان گھمسان کی جنگ کے لڑائی شام اور لبنان کی سرحد تک پہنچ گئی ہے۔ اسرائیلی فوج نے گولان کی پہاڑیوں کی طرف سے کی گئی گولہ باری کے جواب میں شامی علاقے پر توپ خانے سے بمباری کی۔غزہ کی پٹی میں حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل اور شام کے درمیان سرحد پار سے گولہ باری کا تبادلہ ہوا۔ گولان پر بمباری “لبنانی حزب اللہ کے ساتھ مل کر کام کرنے والے فلسطینی دھڑوں” نے کی۔
شامی سرزمین سے میزائل داغنا اور اس پر اسرائیلی ردعمل حماس کے عسکری ونگ (اعزالدین القسام بریگیڈز) کی جانب سے جنوبی لبنان سے اسرائیل کی طرف راکٹ داغنے کی ذمہ داری قبول کرنے کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے۔لبنان سے راکٹ داغے جانے کے بعد اسرائیلی فوج اور حزب اللہ کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ غزہ کی پٹی میں وزارت صحت نے کہا کہ طیاروں، توپ خانے اور بحری کشتیوں کے ذریعے اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی تعداد 900 ہوگئی ہے جبکہ 4,600 زخمی ہوئے ہیں۔ مرنے والوں میں 260 بچے اور 230 خواتین شامل ہیں۔
وزارت صحت نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 22 فلسطینی خاندانوں کو اجتماعی طور پر شہید کیا گیا۔ بمباری کے بعد ڈیڑھ لاکھ فلسطینی بےگھر ہو چکے ہیں۔اسرائیلی فوج نے حال ہی میں کہا تھا کہ گزشتہ ہفتے کے روز غزہ کی پٹی کے ارد گرد کی بستیوں پر حماس کے حملے کے آغاز سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ اسرائیلی ہلاک ہو چکے ہیں۔ لیکن انہوں نے صحیح تعداد نہیں بتائی۔
اسرائیلی فوج کی طرف سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر شائع کردہ اعدادوشمار میں یہ بتایا گیا ہے کہ ہفتہ سے اب تک غزہ سے اسرائیل کی جانب 4500 سے زائد راکٹ فائر کیے گئے، جب کہ حماس کے خلاف کارروائی کے آغاز سے لے کر اب تک حماس کے 2,294 اہداف پر بمباری کی گئی۔
انہوں نے بتایا کہ 2,800 سے زیادہ اسرائیلی زخمی ہوئے۔ یرغمال بنائے جانے والے اسرائیلیوں کی تعداد 50 بتائی گئی ہے۔ اسرائیلی وزیر دفاع نے کہا کہ فوج غزہ کی پٹی پر ایک “جامع حملہ” کرنے کے لیے آگے بڑھے گی، اب غزہ کی پٹی پہلے کی طرح کبھی نہیں ہوگی۔

