اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد نے کہا ہے کہ حکومت قراردادوں سے بڑھ کر مسئلہ کشمیر کے حل کا روڈمیپ دے۔
سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سینیٹر مشتاق احمد کا کہنا تھا کہ کشمیریوں کے ساتھ کئی عشروں سے ظلم جاری ہے، البتہ جب سے مودی وزیراعظم بنا اس کے بعد مظالم کا نیا سلسلہ شروع ہوا ۔ 5 اگست 2019ء کے بعد کشمیریوں کی نسل کشی شروع ہوچکی ہے ۔انہوں نے کہا کہ اب تو بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی چیخ اٹھی ہیں۔ 27 اکتوبر کو بھارتی فوج نے آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے حوالے سے دھمکی دی ہے ۔ وفاقی حکومت بتائے وہ کیا کررہی ہے ؟
سینیٹر مشتاق احمد نے کہا کہ سابق عمران حکومت نے اس مظالم کے باوجود 2 معاہدے کیے۔ایک کرتار پور کا معاہدہ کیا گیا ، دوسرا سیز فائر کا معاہدہ کیا گیا۔ سابق آرمی چیف اور سابق ڈی جی آئی ایس آئی کشمیر معاملے کو 20 سال کے لیے فریز کرنا چاہتے تھے ۔ موجودہ آرمی چیف کا لائن آف کنٹرول دورہ انتہائی خوش آئند مگر یہ کافی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں نے کشمیریوں کو سیاسی کے ساتھ عسکری کارروائیوں کا بھی حق دیا ہے ۔ اب وفاقی حکومت قراردادوں سے آگے بڑھ کر ، کشمیری قیادت اور پارلیمنٹ کو ملا کر روڈ میپ دے۔

