کابل: امیرِ طالبان ملا ہبتہ اللہ اخوندزادہ کے حکم پر اسلامی سزاؤں پر عمل درآمد میں تیزی آگئی اور پہلے مجرم کی سرعام پھانسی کے ایک دن بعد مختلف جرائم میں ملوث خواتین سمیت 27 افراد کو کوڑے مارے گئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کے صوبے پروان میں جرائم ثابت ہونے پر عدالت کے حکم پر کے ایک فٹبال اسٹیڈیم میں 27 مزمان کو سرعام فرداً فرداً 20 سے 39 کوڑے مارے گئے جن میں خواتین بھی شامل ہیں۔ جن مجرموں کو کوڑے مارے گئے ان پر تین عدالتوں میں بدکاری، دھوکہ دہی، جعلی گواہی، جعلسازی، گولی، منشیات کی خرید و فروخت، گھر سے فرار، ہائی وے ڈکیتی اور غیر قانونی تعلقات کے جرائم ثابت ہوئے تھے۔
ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے اسلامی سزاؤں پر عمل درآمد پر عالمی قوتوں کی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان سزاؤں پر تنقید سے ثابت ہوتا ہے کہ بیرون ممالک مسلمانوں کے عقائد، قوانین اور اندرونی مسائل کا احترام نہیں کرتے۔
کابل میں پہلے مجرم کی سرعام پھانسی جبکہ مختلف جرائم میں ملوث خواتین سمیت 27 افراد کو کوڑے مارے گئے

ٹیگز:
کابل
