قلعہ عبداللہ (ڈیلی گرین گوادر)وزیر داخلہ بلوچستان میر ضیاء اللہ لانگو کا قلعہ عبداللہ کے علاقے جنگل پیر علیزئی میں جاری دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قلعہ عبداللہ واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں، واقعے پر دلی دکھ اور افسوس ہےدھرنے میں آنے کا مقصد اپنے عوام کے دکھ کا احساس ہے، جس سے غافل نہیں ہونگےقلعہ عبداللہ کا واقعہ اسلامی، پشتون اور بلوچ روایات کے منافی ہےبلوچ اور پشتون روایات میں جنگ کے دوران گھر، خواتین اور بچے مستثنیٰ ہوتے ہیں جو لوگ خواتین اور بچوں کو نشانہ بناتے ہیں وہ ہماری روایات اور معاشرے کا حصہ نہیں بعض سیاسی جماعتیں اپنے سیاسی مقاصد کے لیے ایسے واقعات کو بطور پلیٹ فارم استعمال کرتی ہیں بحیثیت پاکستانی ہمیں تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک میں دہشت گرد موجود ہیں کچھ سیاسی جماعتیں دہشت گردی کا تمام ملبہ حکومت پر ڈال دیتی ہیں اور عوام کو گمراہ کرتے ہیں حکومت ظالم کے خلاف اور مظلوم کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑی ہےسانحہ زیارت کے دھرنے میں دہشت گردی کے خلاف بات کرنے کے بجائے سارا ملبہ حکومت پر ڈال دیا گیاکیا حکومت اپنے ہی لوگوں کو مارے گی؟ سانحہ زیارت میں شہید ہونے والے پولیس اہلکار ریاست کے اپنے جوان تھےمیں خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہوں، کوئٹہ آتے ہوئے مجھ پر حملہ ہوا، اللہ تعالیٰ نے میری جان بچائی،عوام کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس مقصد سے کبھی پیچھے نہیں ہٹیں گےہمیں متحد ہوکر دہشت گردوں کو دہشت گرد کہنا اور ریاست کا ساتھ دینا ہوگادکھ اور مشکل کی اس گھڑی میں حکومت کی تمام تر ہمدردیاں متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں مہاجرین کی واپسی اور پاکستان کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لیے ریاستی فیصلوں کا ساتھ دینا ہوگادوغلے پن کا رویہ ترک کرکے ملک کے مفاد میں یک زبان ہونا ہوگامنشیات کے خاتمے کے لیے کسی قسم کی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی، سخت کارروائی کی ہدایات جاری کردی ہیں دھرنے کے شرکاء صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں، حکومت ان کے ساتھ مکمل تعاون کے لیے تیار ہے۔
قلعہ عبداللہ کا واقعہ پشتون اور بلوچ روایات کے منافی ہے،میں خود بھی دہشت گردی کا نشانہ بن چکا ہوں،وزیر داخلہ بلوچستان

ٹیگز:
وزیر داخلہ بلوچستان
