کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے مرکزی سیکرٹری نواب محمد ایاز خان جوگیزئی نے گزشتہ رات ضلع قلعہ عبداللہ خان کلی تنگ مسے زئی میں حنفیا کاکڑ اور ان کے فرزند ولی کاکڑ عرف ولو کو شہید کرنے اور ایک نوجوان حیدر کاکڑ کو مسلح جتوں کی جانب سے ساتھ لیجانے، گاؤں کو مکمل طور پر لوٹنے، زیورات اور نقدی ساتھ لیجانے کے وحشیانہ،سفاکانہ حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کلی تنگ مسے زئی کے باسی ان دہشت گردوں کے بارے میں ضلعی انتظامیہ اور کمشنر کو پہلے سے مطلع کرچکے تھے لیکن حکومت کی جانب سے گاؤں کے مکینوں کی حفاظت کے لیے کوئی اقدامات نہیں اٹھایا گیا۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ شہدا کے لواحقین اور علاقے کے لوگوں نے شہدا کے ہمراہ کوئٹہ چمن شاہراہ احتجاجی طور پر بند رکھی ہے۔ اس وحشیانہ اور سفاکانہ حملے کے خلاف حکومت نے اب تک کوئی اقدام نہیں اٹھایا ہے اور نہ ہی اپنے باسیوں کی حفاظت کی ذمہ داری نبھائی ہے۔ بیان میں پشین اور چمن کے اضلاع میں جرگہ کمیٹیوں کی جانب سے کل مورخہ 2نومبر 2026بروز پیر کو پشین اور چمن میں احتجاجی مظاہروں کی ہدایت کرتا ہوں۔ جرگے کے تمام معززین سے اپیل کرتا ہوں کہ دونوں اضلاع میں مظاہرے،احتجاج میں شرکت کرکے بدامنی کے اس خون خوار واقعہ کی مذمت اور روک تھام میں اپنا کردار ادا کریں اور اس سلسلے میں مزید احتجاج کا اعلان بعد میں دیگر اضلاع میں بھی کیا جائے گا اور احتجاج ملزمان کی گرفتاری تک جاری رہے گی۔
قلعہ عبداللہ میں حنفیا کاکڑ اور ان کے فرزند کو شہید کرنے کیخلاف کل پشین اور چمن میں مظاہر ے کئے جائیں گے،نواب ایاز جوگیزئی

ٹیگز:
نواب ایاز جوگیزئی
