کوئٹہ(یو این اے )مرکزی تنظیم تاجران بلوچستان کے ترجمان نے صوبے بھر میں بڑھتی ہوئی بدامنی، چوری، ڈکیتی، لوٹ مار اور قتل و غارت گری پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان واقعات نے تاجر برادری کو شدید عدم تحفظ کا شکار بنا دیا ہے، خاص طور پر ہزارگنجی میں تاجر اتحاد کے صدر سید حیدر آغا اور ان کے ساتھیوں پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے باوجود ملزمان کی عدم گرفتاری قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ناکامی اور حکومتی بے حسی کی عکاس ہے۔ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں، بلکہ کئی ماہ سے کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر کے بازار، مارکیٹیں، شاہراہیں اور رہائشی علاقے جرائم پیشہ افراد کے رحم و کرم پر ہیں، اور عوام و تاجر روزانہ بدامنی کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف مہنگائی، ٹیکسوں کا دبا اور کاروباری مشکلات ہیں، تو دوسری جانب جان و مال کے خطرات نے تاجروں کو مزید بے یقینی کا شکار کر دیا ہے۔مرکزی تنظیم تاجران نے مطالبہ کیا کہ حیدر آغا حملے کے ملزمان کو فی الفور گرفتار کر کے قرار واقعی سزا دی جائے اور متاثرہ تاجروں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ ترجمان نے کہا کہ شہر بھر میں مثر سیکیورٹی پلان بنایا جائے تاکہ تاجر برادری خود کو محفوظ محسوس کرے، بصورت دیگر تاجر برادری اپنا احتجاجی حق استعمال کرنے پر مجبور ہو گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ تنظیم پرامن جدوجہد پر یقین رکھتی ہے، لیکن اگر حالات نہ بدلے تو خاموش نہیں رہا جائے گا۔
تاجر برادری عدم تحفظ کا شکار، ملزمان کی عدم گرفتاری اداروں کی ناکامی ہے، مرکزی تنظیم تاجران

