کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان کا علامتی احتجاجی کیمپ 50 ویں روز بھی جاری رہا ۔ علامتی احتجاجی کیمپ میں اخبارات ،جرائد اور اخبار مارکیٹ کے نمائندگان موجود رہے ۔احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے اشتہارات کی BPPRA پر منتقلی پرنٹ میڈیا سمیت پوری صنعت کیلئے تباہی کا باعث بنے گی جہاں بلوچستان کے اخبارات و جرائد بندش کی جانب جائیں گے وہیں ہزاروں کی تعداد میں تعلیم یافتہ افراد بیروزگار کا سامنا کریں گے جس کے صوبے پر انتہائی منفی نتائج مرتب ہونگے ۔ شرکاء کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی سے بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کو امیدیں وابستہ ہیں وہ صوبے کے وسیع تر مفاد میں اشتہارات کو BPPRA پر منتقل کرنے کے ڈرافٹ کو فوری مسترد کرتے ہوئے بلوچستان کے پرنٹ میڈیا کی سرپرستی کریں ۔علامتی احتجاجی کیمپ کے شرکاء کا کہنا تھا کہ حکومت کی جانب سے وعدں کے باوجود بلوچستان کی واحد اخبار مارکیٹ کیلئے بھی تاحال فنڈز کا اجراء نہ ہونا باعث تشویش ہے کیونکہ کیونکہ اخبار مارکیٹ شدید مالی مشکلات کے باوجود اپنا کام سرانجام دے رہی ہے ۔ شرکاء کا مزید کہنا تھا کہ گزشتہ روز ایک قومی اخبار کی انتظامیہ کی جانب سے سینکڑوں میڈیا ورکرز جن میں کوئٹہ سٹیشن کے بھی متعدد میڈیا ورکرز شامل ہیں ،کو ملازمتوں سے فارغ کردیا گیا جس کی ہم پرزور مذمت کرتے ہیں ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان ایسے کسی بھی عمل کی حمایت نہیں کرے گی جس سے میڈیا کا کوئی بھی شعبہ متاثر ہو ،ایکشن کمیٹی اخباری صنعت بلوچستان موقر روزنامہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ تمام میڈیا ورکرز جن کو ملازمتوں سے فارغ کیا گیا ہے فوری طور پر بحال کیا جائے ۔
اشتہارات کی BPPRA پر منتقلی پوری صنعت کیلئے تباہی کا باعث بنے گی،ایکشن کمیٹی

