کوئٹہ :نیشنل پارٹی کے مرکزی سینئر نائب صدر و سابق سینیٹر میر کبیر احمد محمد شہی کی زیر صدارت نیشنل پارٹی کی سینئر قیادت کا اجلاس محمد شہی ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوا۔اجلاس سے صوبائی صدر میر عبدالخالق بلوچ صوبائی جنرل سیکرٹری خیر بخش بلوچ،مرکزی فنانس سیکرٹری حاجی فدا حسین دشتی مرکزی جوائنٹ سیکرٹری اسلم بلوچ صوبائی نائب صدر رحمت بلوچ مرکزی خواتین سیکرٹری یاسمین لہڑی سمیت دیگر کا خطاب۔اجلاس میں مشترکہ مفادات کونسل کے نئی مردم شماری کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ 2017 کے مردم شماری کو تسلیم نہ کرنے کا اقدام غیر جمہوری و غیر آئینی ہے۔جب مشترکہ مفادات کونسل کے اجلاس میں اکثریتی ممبران نے 2017 کے مردم شماری کی حمایت کی تو پھر دوبارہ کس حیثیت و قانون سے نئی مردم شماری کا اعلان کیا جارہا ہے نیشنل پارٹی اس اقدام کو مضحکہ خیز اور آئین کے برخلاف سمجھتی ہے۔ایک غیر جمہوری حکومت گزشتہ جمہوری حکومت کے اقدام کے خلاف یہ سازش رچا رہی ہے۔جو قابل مذمت ہے۔نیشنل پارٹی اس غیر جمہوری و غیر آئینی اقدام کے خلاف بھر پور جدوجہد کریگی۔ اجلاس میں کہا گیا کہ نئی مردم شماری کرنے کا ملک کسی بھی صورت متعمل نہیں ہوسکتا۔ملک اس وقت سنگین اقتصادی کرائسسز سے گزررہا ہے۔اور حکومت نے نء مردم شماری کا تخمینہ23 ارب سے زائد لگا رکھا ہے۔جس میں اضافہ ہوسکتاہے۔اس کا مطلب کہ ملک کو مکمل طور پر معاشی طور پر تباہ کرنا ہے۔اجلاس میں کہا گیا کہ موجودہ حکومت بصیرت و سنجیدگی سے عاری ہے۔نء مردم شماری کا اعلان ملک کو تو معاشی حوالے سے مذید بحرانوں میں دھکیلنے کے ساتھ علاقاہی سماجی حوالے سے بھی دلدل میں دھکیل دے گا۔جس کی اجازت نیشنل پارٹی کسی صورت نہیں دے گی۔ائین کے روح سے مردم شماری ہر دس سال بعد منعقد ہوتی ہے۔لیکن بدقسمتی سے یہاں آئین کو عمل میں لانے کے بجائے مفادات کے بھینٹ چڑھا گیا۔اور مردم شماری کو وقت پر نہیں کیا جاتا رہا۔2017 میں مردم شماری کا انعقاد کرکے ملک کا اعداد و شمار مرتب کیا گیا۔جس پر محنت کی گء اور پرامن انداز میں تمام مراحل کو مکمل کیا گیا۔اب اس کو متنازعہ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے جس کی ہم مذمت کرتے ہیں۔اجلاس میں کہا گیا کہ نیشنل پارٹی جمہوری سیاسی جماعت ہے۔جو آئین کو ہی ہر چیز و عمل سے مقدم سمجھتی ہے۔آئین کے مطابق ہر دس سال بعد یعنی 2027 میں اگلی مردم شماری کی مدت ہے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔ اجلاس میں کہا گیا کہ۔نیشنل پارٹی 2017 کے مردم شماری کے نتائج کو ہی ملک کے لیے بہتر سمجھتی ہے۔اس لیے حکومت اپنا فیصلہ واپس لے تاکہ ملک کی معیشت کو مزید نقصان نہ ہو۔اجلاس میں نیشنل پارٹی کے صوبائی ترجمان علی احمد۔ممبران مرکزی کمیٹی راحت ملک و میران بلوچ۔سینئر اراکین ڈاکٹر کہور خان بلوچ.مصنف اغاگل، صوبائی سوشل میڈیا سیکرٹری سعد بلوچ ممبران ورکنگ کمیٹی انیل مسیح بلوچ،صدیق کھیتران ریاض زہری نعیم بنگلزئی سمیت دیگر موجود تھے۔
017 2 کے مردم شماری کو تسلیم نہ کرنے کا اقدام غیر جمہوری و غیر آئینی ہے،میر کبیر احمد محمد شہی

ٹیگز:
017 2 کے مردم شماری
