کوئٹہ+اسلام آباد(ڈیلی گرین گوادر) چیئرمین اسٹینڈنگ کمیٹی برائے پیٹرولیم و رسورسز اور سیاسی و اقتصادی امور کے ماہر سینیٹر محمد عبدالقادر کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پیٹرولیم کے خصوصی اجلاس کی صدارت کی انہوں نے کہا کہ گیس بلوچستان سے نکلتی ہے لیکن بلوچستان ہی کے باسیوں کو گیس فراہم نہیں کی گئی. یہ اہالیان بلوچستان کے ساتھ بہت بڑی زیادتی ہے۔انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں بلوچستان میں باقی ملک کی نسبت زیادہ سردی پڑتی ہے گرمیوں میں بلوچستان کے غریب گیس صارفین کا گیس بل اگر 3 سے 5 ہزار روپے ماہانہ آ تا تھا لیکن اب بے انتہا مہنگے فی یونٹ نرخوں کی وجہ سے ان کا بل 30 سے 50 ہزار آتا ہے جو انکی برداشت سے باہر ہو گیا ہے حکومت فوری طور پر گیس کے ناقابل برداشت فی یونٹ نرخوں کو کم کے پہلے والی سطح پر لائے تاکہ صارفین بل ادا کر سکیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں یوریا اورڈی ایپی کھاد کی مصنوعی قلت انتہائی سنجیدہ صورتحال اختیار کر گئی ملک بھر میں کسانوں کو ریلیف دینے کی بجائے انہیں کھادیں دوگنی قیمت پر بھی دستیاب نہیں اس وجہ سے زراعت بہت بری طرح سے متاثر ہو رہی ہے کھاد کی فیکٹریوں کو سبسڈایذڈ گیس مہیا کی جا رہی ہے اور انہیں سالانہ اربوں روپے کی سبسڈی بھی دی جاتی ہے لیکن اس کے باوجود کسانوں کو کھاد سستے داموں مہیا نہیں ہو رہی حکومت اس بلیک مارکیٹنگ اور چور بازاری کا سختی سے نوٹس لے اور اس مکروہ دھندے میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دے۔چیئرمین قائمہ کمیٹی نے کہا کہ ایل این جی کی درآمد کی وجہ سے ملک کو سالانہ 200 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے ایل این جی کی درآمد کے حوالے سے حکومت نے اجارہ قائم کر رکھی ہے حکومت بہت مہنگے داموں ایل این جی خرید رہی ہے اگر ایل این جی کی درآمد نجی شعبے کے حوالے کر دی جائے تو اس مد میں بھی اربوں روپے کی بچت ہو سکتی. نجی شعبے کی وجہ سے مسابقت پیدا ہو گی اور یوں نرخ نیچے آئیں گے.اور ملکی خزانے پر بوجھ میں خاطر خواہ کمی واقع ہوگی
گیس بلوچستان سے نکلتی ہے لیکن بلوچستان ہی کے باسیوں کو کم نرخوں پر گیس فراہم نہیں کی گئی، سینیٹر محمد عبدالقادر

ٹیگز:
سینیٹر محمد عبدالقادر
