کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر)بلوچستان اسمبلی کے اجلاس میں وزیراعلی میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ پیٹرولیم لیوی وفاقی حکومت وصول کرتی ہے اور موجودہ علاقائی کشیدگی اور جنگی حالات کے پیش نظر وفاق کو ان مالی وسائل کی اشد ضرورت ہے۔ اگر حالات معمول کے مطابق ہوتے تو وہ پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں ختم کرنے سے متعلق قرارداد کی حمایت کرتے، تاہم موجودہ صورتحال میں وہ ذاتی طور پر اس کی حمایت نہیں کرتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ارکان اسمبلی اس معاملے پر اپنی رائے دینے میں آزاد ہیں۔مولانا ہدایت الرحمن کی جانب سے پیٹرولیم لیوی اور دیگر مدات میں وصولیاں ختم کرنے سے متعلق پیش کردہ قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے وزیراعلی نے کہا کہ پیٹرولیم لیوی سے حاصل ہونے والی آمدن وفاقی حکومت کے مالی معاملات میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹرولیم لیوی کی بچت سے بلوچستان میں این 25 شاہراہ کا منصوبہ بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔قرارداد میں مقف اختیار کیا گیا کہ ملک میں مہنگائی نے عام شہریوں کی زندگی مشکل بنا دی ہے، جبکہ امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعے کے باعث پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے عوامی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ قرارداد کے متن کے مطابق پیٹرول کی اصل قیمت اور کسٹم ڈیوٹی سمیت مجموعی لاگت 238 روپے 70 پیسے بتائی گئی، جبکہ اس کے علاوہ 80 روپے پیٹرولیم لیوی، 5 روپے ماحولیاتی لیوی اور مختلف مارجنز کی مد میں 25 روپے 30 پیسے وصول کیے جا رہے ہیں۔قرارداد میں صوبائی حکومت سے سفارش کی گئی کہ وہ وفاقی حکومت سے رابطہ کرکے پیٹرولیم لیوی سمیت دیگر مدات میں وصولیاں ختم کرنے کا مطالبہ کرے۔ اس کے علاوہ غیر ضروری سرکاری اخراجات اور مراعات کا جائزہ لینے، مفت پیٹرول کی فراہمی ختم یا محدود کرنے اور مالی وسائل کے شفاف اور کفایت شعار استعمال کو یقینی بنانے کی تجویز بھی دی گئی۔اجلاس میں اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عوام پہلے ہی مہنگائی سے پریشان ہیں، اس لیے پیٹرولیم مصنوعات پر اضافی وصولیوں کا بوجھ کم کیا جانا چاہیے۔ سردار عبدالرحمن کھیتران نے کہا کہ وفاقی حکومت چلانے کے لیے بعض ٹیکس عائد کرنا ضروری ہوتے ہیں اور مولانا ہدایت الرحمن سے قرارداد واپس لینے کی درخواست کی۔ صوبائی وزیر داخلہ میر ضیا اللہ لانگو نے بھی قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان عوامی پارٹی اس معاملے پر قائد ایوان کے مقف کی تائید کرتی ہے۔ اختلافی آرا کے باوجود اسپیکر نے رائے شماری کے بعد قرارداد منظور ہونے کا اعلان کیا۔اجلاس میں محکمہ جنگلات میں بھرتیوں سے متعلق بے ضابطگیوں کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے کہا کہ اس معاملے میں ملوث ملازمین کے خلاف کارروائی کی جا چکی ہے، لہذا مزید کمیٹی بنانے کی ضرورت نہیں ہے۔مولانا ہدایت الرحمن نے محکمہ منصوبہ بندی و ترقیات سے متعلق توجہ دلا نوٹس پیش کرتے ہوئے پاک چین اقتصادی راہداری کے تحت شروع کیے گئے منصوبوں اور دوسرے مرحلے میں بلوچستان کے لیے شامل منصوبوں کی تفصیلات طلب کیں۔ایوان نے معذور افراد کے حقوق کے تحفظ، بحالی اور مساوی مواقع کی فراہمی سے متعلق ڈپٹی اسپیکر غزالہ گولہ کی پیش کردہ قرارداد متفقہ طور پر منظور کر لی۔ قرارداد میں معذور افراد کو تعلیم، روزگار اور معاشرتی ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنے، خصوصی بچوں کے لیے معیاری تعلیم اور فنی تربیت کی سہولیات بڑھانے اور سرکاری ملازمتوں میں مختص کوٹے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور دیا گیا۔پارلیمانی سیکرٹری برائے سماجی بہبود ولی محمد نورزئی نے قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلی میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں خصوصی افراد کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صوبے میں خصوصی افراد کے لیے اسکول قائم کیے گئے ہیں، سالانہ 120 خصوصی افراد کو تدریسی تربیت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ دستکاری اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بھی ان کی صلاحیتیں بڑھانے کے لیے کام جاری ہے۔اجلاس میں مدارس کے بل کا معاملہ بھی زیر بحث آیا۔ اپوزیشن لیڈر یونس عزیز زہری اور رکن اسمبلی اصغر ترین نے کہا کہ 26ویں آئینی ترمیم کے تناظر میں مدارس کے بل کی منظوری سے متعلق وعدے کیے گئے تھے، جنہیں پورا کیا جانا چاہیے۔ صوبائی وزیر صادق عمرانی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ جمہوریت، آئین اور قانون کی بالادستی کے لیے کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں سے کہا کہ وہ اپنی قراردادیں قیادت کو بھجوانے کے لیے فراہم کریں، جس کے بعد قیادت کی ہدایات کے مطابق عمل کیا جائے گا۔سردار عبدالرحمن کھیتران نے بزرگ سیاست دان ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی کی وفات کے بعد ان کی میت کو ایک دہشت گرد تنظیم کے پرچم میں لپیٹے جانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر عبدالحکیم لہڑی ایک دانشور اور ادارے کی حیثیت رکھتے تھے۔ انہوں نے دہشت گردی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پلوں کو تباہ کرنے سے صوبے کے عوام کو نقصان پہنچتا ہے، جبکہ دہشت گرد بلوچ افسران اور نہتے شہریوں کو بھی نشانہ بنا رہے ہیں۔بعد ازاں اسپیکر بلوچستان اسمبلی نے اجلاس پیر کو سہ پہر 3 بجے تک ملتوی کر دیا۔
جنگی حالات میں پیٹرولیم لیوی ختم کرنے کی قرارداد کی حمایت نہیں کرتا، وفاق کو مالی وسائل کی ضرورت ہے، وزیراعلی بلوچستان

ٹیگز:
وزیراعلیٰ بلوچستان
