لاہور (ڈیلی گرین گوادر) حلقہ خواتین جماعت اسلامی ضلع لاہور کے تحت بھارت کے ایک صوبے کے وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے ایک مسلمان خاتون کا نقاب زبردستی کھینچ کر اتارنے کے شرمناک، توہین آمیز اور انسانیت سوز واقعے کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اس مظاہرے کا مقصد بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلام دشمنی، مسلم خواتین کی تذلیل اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین پامالی کے خلاف آواز بلند کرنا اور مظلوم مسلمان خاتون سے اظہارِ یکجہتی کرنا تھا۔احتجاجی مظاہرے کی قیادت سیکرٹری جنرل حلقہ خواتین جماعت اسلامی پاکستان ڈاکٹر حمیرا طارق، ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی، ڈپٹی سیکرٹری و ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید اور ناظمہ حلقہ خواتین ضلع لاہور عظمیٰ عمران نے کی۔مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر حمیرا طارق نے کہا کہ یہ واقعہ بھارت کے اس جھوٹے اور کھوکھلے دعوے کو بے نقاب کرتا ہے جس کے تحت وہ خود کو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت قرار دیتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ بھارت اب ایک متعصب، ظالم اور جابرانہ ریاست بن چکا ہے جہاں حکمران سرِعام بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پوری دنیا کے سامنے ایک مسلمان خاتون کی عزت و وقار کو پامال کرنا محض ایک فرد کا عمل نہیں بلکہ یہ ریاستی سرپرستی میں پنپنے والی اسلام دشمنی، مسلم دشمنی اور ہندو انتہا پسندانہ سوچ کا واضح اور خطرناک اظہار ہے۔ بھارتی وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے نقاب نوچنے کی گھٹیا حرکت مقبوضہ کشمیر میں خواتین پر ہونے والے مظالم کی عکاس ہے۔ اگر ایک تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون بھی محفوظ نہیں تو بھارت میں کسی بھی مذہب کی عورت کی سلامتی شدید خطرے میں ہے۔انہوں نے زور دیا کہ ایسے غیر ذمہ دار اور متعصب ہمسائے کے ہوتے ہوئے پاکستان کو اپنی سرحدوں اور نظریاتی بنیادوں کو مزید مضبوط کرنا ہوگا۔ڈپٹی سیکرٹری ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی نے کہا کہ اگر کسی مسلمان وزیر نے راجستھان کی کسی عورت کا گھونگھٹ زبردستی اٹھایا ہوتا تو آج عالمی میڈیا میں شور مچ چکا ہوتا، مگر کشمیر اور بھارت کی مسلمان عورت کے معاملے پر دنیا کی خاموشی دوہرے معیار کی عکاس ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ مذہبی آزادی ہی نہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، جس پر عالمی ضمیر کو جاگنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بنیادی انسانی حقوق پامال کرنے والوں کو سخت اور عبرتناک سزا دی جائے۔ڈپٹی سیکرٹری اور ڈائریکٹر میڈیا سیل ثمینہ سعید نے کہا کہ بھارت میں آج نہ صرف مقبوضہ کشمیر بلکہ پورے ملک میں ظلم و جبر کا راج ہے۔ ایسے حکمرانوں کے ہوتے ہوئے نہ مسلمان عورت محفوظ ہے اور نہ ہندو عورت۔ انہوں نے تمام مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارتی سفیروں کو طلب کر کے باضابطہ احتجاج ریکارڈ کرائیں اور بھارت پر اقلیتوں، خصوصاً مسلم خواتین کے تحفظ کے لیے دباؤ بڑھائیں۔ پورے عالمِ اسلام کو اس معاملے پر متحد ہو کر عملی اقدامات اٹھانے چاہئیں۔ناظمہ حلقہ خواتین ضلع لاہور عظمیٰ عمران نے کہا کہ مسلم خواتین کا حجاب اور نقاب ان کی شناخت، عزت، آزادی اور مذہبی حق ہے، جسے کوئی طاقت چھین نہیں سکتی۔ بھارت میں مسلمان خواتین کے پردے، مذہبی آزادی اور شخصی وقار پر مسلسل حملے کیے جا رہے ہیں جو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔رہنماؤں نے متفقہ طور پر عالمی برادری، انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس واقعے کا فوری نوٹس لیں، بھارت میں بڑھتی ہوئی مسلم دشمنی کا جائزہ لیں اور مسلمان خواتین کے مذہبی و انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اور عملی اقدامات کریں۔اس پُرامن احتجاجی مظاہرے میں حلقہ خواتین جماعت اسلامی ضلع لاہور کی ارکان و کارکنان، گھریلو و ملازمت پیشہ خواتین، سول سوسائٹی کے نمائندگان، انسانی حقوق کے کارکنان اور میڈیا نمائندگان نے بڑی تعداد میں شرکت کی اور مظلوم مسلمان خاتون سے بھرپور یکجہتی کا اظہار کیا۔
بھارتی وزیرِ اعلیٰ کی جانب سے مسلمان خاتون کا نقاب نوچنا ریاستی اسلام دشمنی کا کھلا ثبوت ہے ` حلقہ خواتین جماعت اسلامی لاہور

ٹیگز:
جماعت اسلامی
