کوئٹہ (ڈیلی گرین گوادر) پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام کوئٹہ میں سوئی سدرن گیس کمپنی، اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے گیس کے بھاری بھرکم بلوں، زائد بلنگ، گیس کی ناروا لوڈشیڈنگ اور بجلی کی طویل لوڈشیڈنگ کے خلاف پارٹی کے مرکزی سیکرٹریٹ سے ایک عظیم الشان احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ ریلی کی قیادت پارٹی کے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی آفس سیکرٹری ندا سنگر، صوبائی ڈپٹی سیکرٹریز پروفیسراحمد خان لونی،پروفیسر اسد ترین، عبیداللہ توخی، حیات خان اچکزئی،باز پشتون، رحمت اللہ صابر،جمعہ خان زرکون، مرکزی کمیٹی کے اراکین نے کی، احتجاجی مظاہرے میں پارٹی کارکنوں اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔احتجاجی ریلی مختلف شاہراہوں سے ہوتی ہوئی منان چوک، قندھاری بازار، لیاقت بازار، پرنس روڈ اور مسجد روڈ سے گزر کر کوئٹہ پریس کلب پہنچی، جہاں ایک عظیم الشان احتجاجی جلسہ عام منعقد ہوا۔ ریلی کے شرکاء نے گیس کے بھاری بھرکم بل نامنظور، گیس اور بجلی کی لوڈشیڈنگ ختم کرو، ملی شہید عثمان خان کاکڑ زندہ باد، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی زندہ بادچیئرمین خوشحال خان کاکڑ زندہ باد اور شریک چیئرمین مختار خان یوسفزئی زندہ باد سمیت دیگر فلک شگاف نعرے لگائے۔ احتجاجی جلسے کی صدارت صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے نے کی۔احتجاجی جلسے سے صوبائی صدر نصراللہ خان زیرے، صوبائی آفس سیکرٹری ندا سنگرنے خطاب کیا جبکہ نظارت کے فرائض صوبائی ڈپٹی سیکرٹری باز پشتون نے سرانجام دیا تلاوت کلام پاک کی سعادت پارٹی کے علاقائی معاون سیکرٹری مولوی عبدالرحیم نے حاصل کی۔ جلسے سے پارٹی رہنماؤں اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے سوئی سدرن گیس کمپنی، اوگرا اور وزارتِ پٹرولیم کی جانب سے کوئٹہ سمیت صوبے کے ان تمام اضلاع کے عوام کے ساتھ روا رکھے گئے ناروا سلوک کی شدید مذمت کی، جہاں گیس کی سہولت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ پانچ یونٹ گیس استعمال کرنے پر اٹھارہ ہزار روپے سے زائد اور پچاس یونٹ گیس استعمال کرنے پر ڈیڑھ لاکھ روپے تک کے بل بھیجنا عوام کے ساتھ سراسر ظلم اور ناانصافی ہے۔ عوام پہلے ہی مہنگائی اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں، ایسے میں بھاری بھرکم گیس بلوں نے ان کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔مقررین نے کہا کہ قدرتی گیس ہمارے صوبے سے نکلتی ہے، لیکن افسوس کہ یہاں کے عوام اپنی ہی سرزمین کے قدرتی وسائل سے محروم ہیں۔ کوئٹہ میں شدید سردی اور منفی درجہ حرارت کے دوران گیس عوام کی بنیادی ضرورت ہے، بلکہ ان کے لیے زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکی ہے۔ گیس کے کم پریشر اور ناروا لوڈشیڈنگ نے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گیس کی کیلوریز میں اچانک کمی بھی عوام کے لیے ناقابلِ برداشت ہے۔ گزشتہ سال گیس کے باعث پیش آنے والے متعدد واقعات میں بچے، بزرگ اور دیگر شہری جان کی بازی ہار گئے، لیکن اس کے باوجود متعلقہ ادارے عوام کی جانوں کے تحفظ اور گیس کی مناسب فراہمی کے لیے سنجیدہ اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ کس قدر افسوسناک صورتحال ہے کہ ایک ایسا ملک جس کے پاس بڑی فوج، ایٹمی طاقت، جدید ٹیکنالوجی اور وسیع بیوروکریٹک نظام موجود ہے، وہ اپنے عوام کو بجلی، گیس، روزگار اور امن فراہم نہیں کر سکتا۔ عوام کو بنیادی سہولیات سے محروم رکھنا اور ان پر بھاری بلوں کا بوجھ ڈالنا حکمرانوں کی ناکامی اور ناقص حکمرانی کا واضح ثبوت ہے۔ گیس اور بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ، غیرمنصفانہ بلنگ اور کم پریشر نے عوام کی زندگی کو شدید متاثر کر رکھا ہے، جس کا فوری تدارک ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ گیس اور بجلی کے بلوں کی ادائیگی کے باوجود عوام کو مطلوبہ سہولیات فراہم نہ کرنا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے اور عوام کے ساتھ کھلی ناانصافی ہے۔مقررین نے مطالبہ کیا کہ گیس کے بھاری بھرکم بلوں اور غیرمنصفانہ بلنگ کا فوری نوٹس لے کر اس کا خاتمہ کیا جائے، گیس اور بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ ختم، گیس کا پریشر بحال اور کیلوریز مقررہ معیار کے مطابق فراہم کی جائیں، جبکہ عوام کو بلا تعطل بنیادی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔انہوں نے واضح کیا کہ پشتونخوا نیپ اپنے عوام کی تائید و حمایت سے اس احتجاجی تحریک کو مزید وسعت دے گی اور عوام کے بنیادی حقوق کے حصول تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
کوئٹہ، پشتونخوا نیشنل عوامی پارٹی کے زیرِ اہتمام گیس و بجلی کی ناروا لوڈشیڈنگ اور اوور بلنگ کے خلاف احتجاجی ریلی

