فلیگ شپ پروجیکٹس کے تحت 200 شیلٹر لیس سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے، شکیل قادر خان
کوئٹہ(ڈیلی گرین گوادر) چیف سیکرٹری بلوچستان شکیل قادر خان نے کہا کہ صوبائی حکومت معیاری تعلیم کی فراہمی کو اولین ترجیح قرار دیتے ہوئے سکولوں میں مسنگ سہولیات کو پورا کرنے اور شیلٹر لیس سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کے لیے ٹھوس بنیادوں پر اقدامات کر رہی ہے اور فلیگ شپ پروجیکٹس کے تحت 200 شیلٹر لیس سکولوں کی عمارتوں کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا ہے یہ کاوشیں صوبے بھر میں تعلیمی بحران کو کم کرنے، عوام کا اعتماد بحال کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے محکمہ تعلیم سکولز کی ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے ایک اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی معیار کو بہتر بنانے اور بچوں کے تعلیمی ماحول کو عصر حاضر کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے گا تاکہ وہ جدید دور کی تعلیم سے مستفید ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے سکولوں میں ٹرانسپورٹ پروگرام کا آغاز کیا ہے، جس کے تحت صوبے بھر میں طلباء کے لیے 142 بسیں فراہم کی جا رہی ہیں۔ حکومت آئی ٹی اور سائنس لیبز، ہائی اور ہائر سیکنڈری اسکولوں میں جدید سائنس اور آئی ٹی لیبز قائم کرنے کے منصوبے پر کام کر رہی ہے۔ اس کے لیے اس سال 250 ملین روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ بچوں کو عملی اور جدید تعلیم دی جا سکے، جس میں کمپیوٹر سائنس کے جدید آلات اور تحقیق کے مواقع شامل ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ سکولوں میں واش سہولیات کی فراہمی کے لیے 500 ملین روپے کے بجٹ سے پینے کے صاف پانی، ٹوائلٹس اور ہینڈ واش سٹیشنز کی تعمیر اور بحالی کی جارہی ہے، جس سے بچوں کے صحت و صفائی کے مسائل حل ہوں گے اور تعلیمی ماحول مزید محفوظ بنایا جائے گا۔ یہ اقدامات بلوچستان کے تعلیمی نظام کو مضبوط بنانے اور بچوں کو بہتر تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے کئے جا رہے ہیں، تاکہ صوبے میں شرح خواندگی اور معیار تعلیم دونوں میں نمایاں بہتری آئے۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ بلوچستان ایجوکیشن فاؤنڈیشن کے زیر انتظام 664 نئے سکولز قائم کئے گئے ہیں جس سے 43000 سے زائد بچوں کا داخلہ ممکن ہوا ہے۔
